Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
362 - 1087
 عذاب کی تکلیف کا احساس حیوان کے مخصوص اجزا ء کو ہوتا ہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس پر قادر ہے کہ وہ ان اجزاء کو پھر سے قابلِ احساس بنا دے۔
{4}…میزان عمل: کے حق ہونے پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ، فرمان باری تعالیٰ ہے :
وَنَضَعُ الْمَوَازِیۡنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (پ۱۷،الانبیاء:۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن۔
	ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
فَمَنۡ ثَقُلَتْ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ  ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ ﴿۸﴾ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ  الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوۡنَ﴿۹﴾(پ۸،الاعراف:۸،۹)
 ترجمۂ کنز الایمان:تو جن کے پلّے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے اور جن کے پلے ہلکے ہوئے تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی اُن زیادتیوں کا بدلہ جو ہماری آیتوں پر کرتے تھے ۔
   	میزانِ عمل قائم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اعمال کے صحیفوں میں ، اعمال کے ان درجوں کے مطابق جو اس کے ہاں ہیں وزن پیدا فرما دے گا تاکہ بندوں کو اپنے اعمال کی مقدار معلوم ہو جائے اور عذاب کی صورت میں عدلِ الٰہی اور ثواب کے اضافے وعفو کی صورت میں فضلِ الٰہی واضح ہو جائے۔
{5}…پل صراط:یہ جہنم کی پشت پر بنایا گیا ہے ۔بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔
	 ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَاہۡدُوۡہُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیۡمِ ﴿ٙ۲۳﴾ وَقِفُوۡہُمْ اِنَّہُمۡ مَّسْـُٔوۡلُوۡنَ﴿ۙ۲۴﴾ (پ۲۳،الصّٰفّٰت:۲۳،۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان: ان سب کو ہانکو راہِ دوزخ کی طرف اور انہیں ٹھہراؤ ان سے پوچھنا ہے۔
	اس پُل کا ہونا بھی ممکن ہے۔ لہٰذا اس پر ایمان لانا بھی واجب ہے۔نیزجو ذاتِ باری تعالیٰ پرندے کو ہوا میں اُڑانے پر قادر ہے، اسے انسا ن کو پل صراط پر چلانے کی بھی قدرت ہے۔
{6}…جنت وجہنم :تخلیق ہو چکی ہے۔ چنانچہ،اللّٰہ تبارَک وتعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ 
ترجمۂ کنز الایمان: اور دوڑو اپنے ربّ کی بخشش اور ایسی جنّت