Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
361 - 1087
ایک سوال اور اس کے دو جواب:
	میت کے اجزا تو حالت ِسکون میں ہوتے ہیں اور سوالاتِ نکیرین بھی( ہم زندوں کو) سنائی نہیں دیتے ( تو پھر نکیرین کا سوال کرنا اور میت کا جواب دینا کیسے ثابت ہوا)؟اس کے دوجواب ہیں :(۱)…محو ِ خواب شخص بھی بظاہر سکون میں نظر آتا ہے، لیکن اسے باطنی طور پردکھ سکھ کا احساس ہو رہاہوتا ہے جس کا اثربیداری کے بعد بھی رہتاہے۔ (۲)…بارگاہِ رسالت میں حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام جب حاضر ہوتے تو ’’آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں مُلاحَظہ بھی فرمارہے ہوتے اور ان کا کلام بھی سن رہے ہوتے جبکہ شرکائے بارگاہِ رسالت حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام کو نہ دیکھ رہے ہوتے اور نہ سن رہے ہوتے اور انہیں صرف اسی قدَر علم حاصل ہوتا جتنا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا۔‘‘ (۱) چونکہ (دنیاوی حیات میں ) عوامُ النّاس کو فرشتوں کی زیارت اور ان کے کلام کی سماعت پر قدرت نہیں دی گئی اس لئے وہ حضرتِ سیِّدُناجبریل عَلَـیْہِ السَّلَام کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔
{3}…عذاب قبر: شریعت مطہرہ میں اس کے متعلق بھی روایات منقول ہیں ۔
	اللّٰہربُّ العزتعَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے: اَلنَّارُ یُعْرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا ۚ وَ یَوْمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ ۟ اَدْخِلُوۡۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ﴿۴۶﴾ (پ۲۴، المؤمن:۴۶)
ترجمۂ کنز الایمان:آ گ جس پر صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو ۔
	نیز آقائے دوعالم، نور مجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْنکا عذابِ قبر سے پناہ مانگنا منقول ہے۔ (۲)  عقلاً بھی اس کا وقوع ممکن ہے۔ لہٰذا اس پر ایمان لانا واجب ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	جسے مختلف درندوں نے کھا لیا ہو یا مختلف پرندوں نے نوچ لیا ہو۔ اس پر عذابِ قبر کیسے ہوگا؟جواب، اجزائے میت کا درندوں کے پیٹوں یا پرندوں کے پوٹوں میں متفرق ہونا عذابِ قبر کو ماننے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا، کیونکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، الحدیث:۳۲۱۷، ج۲، ص۳۸۳۔
2…صحیح مسلم، کتاب المساجدومواضع الصلاۃ، باب ما یستعاذ منہ فی الصلاۃ، الحدیث: ۵۸۸، ص۲۹۶۔