Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
360 - 1087
الٓـمّٓ ﴿۱﴾ۚ غُلِبَتِ الرُّوۡمُ ۙ﴿۲﴾ فِیۡۤ اَدْنَی الْاَرْضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوۡنَ ۙ﴿۳﴾ فِیْ بِضْعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ   (پ۲۱،الروم:۱تا۴)
ترجمۂ کنز الایمان: رُومی مغلوب ہوئے پاس کی زمین میں اور اپنی مغلوبی کے بعد عنقریب غالب ہوں گے، چند برس میں ۔
	اور معجزہ تصدیقِ رسالت پر اس لئے دلالت کرتا ہے کہ ہر وہ کام جو انسان کے بس سے باہر ہو وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ہوتا ہے۔ تو جب بھی حضورنبی ٔکریم ، رء وف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایسے فعل کو اپنی صداقت پر واضح دلیل بنائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ گویا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرمارہا ہے: ’’میرے رسول نے سچ کہا۔‘‘ اس کی مثال یوں سمجھئے ! جیسے کوئی آدمی بادشاہ کے سامنے اس کی رعایا کی موجودگی میں دعویٰ کرے کہ میں تمہارے لئے اس بادشاہ کا قاصد ہوں ۔ پھر وہ شخص بادشاہ سے عرض گزار ہو کہ اگر میں اپنے دعوے میں سچا ہوں تو آپ اپنی مسند پر خلافِ معمول تین بار اٹھئے بیٹھئے، اگر بادشاہ اسی طرح کردے تورعایا کو یقین ہو جائے گا کہ بادشاہ نے قاصد کا دعویٰ سچ ثابت کر دیا۔
چوتھے رکن کی تفصیل
یہ رکن سنی سنائی باتوں اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَـیْہِ وَسَلَّمسے منقول روایات کو سچ جاننے کے متعلق ہے۔
یہ بھی دس اصولوں پر مشتمل ہے۔
{1}…حشر ونشر: کے متعلق شریعت ِ اسلامیہ نے جو کچھ بیان کیا وہ برحق ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ کیونکہ ایسا ہونا عقلاً ممکن ہے اور حشرونشر کا مطلب ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنا۔ اس امر پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  قادر ہے جس طرح وہ عدم کو وجود دینے پر قادر ہے۔ جیسا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کا فرمانِ عالیشان ہے: قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ ہِیَ رَمِیۡمٌ ﴿۷۸﴾ قُلْ یُحْیِیۡہَا الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَہَاۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ (پ۲۳، یٰس :۷۸،۷۹)
ترجمۂ کنز الایمان:بولا ایساکون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گَل گئیں ؟تم فرماؤ ! انھیں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا۔
{2}…منکر نکیر: سوالات منکر نکیر کی تصدیق کرنا بھی واجب ہے کیونکہ اس بارے میں احادیث مروی ہیں ۔ نکیرین کا سوالات کرنا ممکن ہے۔ اس معاملے کا تقاضا سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ زندگی کو کسی ایسے جز کی طرف لوٹا دیا جائے جس کے ذریعے خطاب کو سمجھا جاتا ہے اور ایسا ہونا فی نفسہٖ ممکن ہے۔