اِبتِدائیہ
سب سے پہلے میں اللّٰہ جَلَّ شَا نُہکی بے حساب اور مسلسل حمد وثنا کرتا ہوں اگرچہ اس کی شانِ عظمت کے سامنے تمام حمد کرنے والوں کی حمد ناقص ہے۔ اس کے بعد اس کے رسولوں پر ہدیہ دُرود وسلام بھیجتا ہوں جوسیِّدُالْبَشر کے ساتھ ساتھ دوسرے تمام رسولوں کو بھی شامل ہو۔ پھر خدا سے خیر طلب کرتا ہوں اپنے اس ارادے پر جو میں نے احیائے عُلومِ دین(یعنی دینی علوم کو زندہ کرنے) کے بارے میں کتاب لکھنے کا کیا ہے۔ اس کے بعد اے دِیدہ ودانستہ انکار کرنے والوں کے گروہ میں شامل شدّت سے ملامت کرنے والے اور نادانستہ انکار کرنے والوں کے طبقات میں انکار اور لعن طعن میں حد سے بڑھنے والے! تیرے تعجب وحیرت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے میری زبان سے خاموشی کی گرہ کھول دی ہے اور کلام وگفتگو کا ہار میرے گلے میں ڈال دیا ہے کیونکہ تو نے باطل کی مدد اور جہالت کو اچھا قرار دینے میں ہَٹ دَھرمی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ واضح حق سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور اُن لوگوں میں فتنہ وفساد پھیلا رکھا ہے جو (بری)رسموں سے تھوڑا بہت نکلنا چاہتے یا ان رسموں سے تعلق توڑ کر علم پر عمل پیرا ہونے کی کچھ نہ کچھ خواہش رکھتے ہیں ۔ اس اُمید پر کہ تزکیہ نفس اور دل کی اصلاح کرنے میں کامیاب ہوجائیں جس کا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے اور تمام عمر کی جانے والی کوتاہیوں کے تدارُک سے نااُمید ہوکر زندگی کی بعض کوتاہیوں کا تدارُک کرلیں اور لوگوں کے اس ہجوم سے بچ جائیں جن کے بارے میں آقائے دوعالم، نورِ مجسم صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اُس عالم کو ہو گا جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس کے علم سے نفع نہ دیا۔‘‘ (۱)
وجہ تصنیف:
میری زندگی کی قسم(۲) تیرے تکبر پر اڑنے کا سبب اس بیماری کے سوا کوئی نہیں جس نے بہت سے لوگوں کو گھیر رکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیھقی، باب فی نشر العلم، الحدیث:۱۷۷۸، ج۲، ص۲۸۵۔المجالسۃ وجواھر العلم للدینوری، الحدیث:۹۱، ج۱، ص۵۷۔
2…مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمدیار خان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُالْمَنَّان مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج4، ص337 پر فرماتے ہیں : لَعَمْرِی(یعنی میری عمر کی قسم ) قسم شرعی نہیں ، وہ تو صرف خدا کے نام کی ہوتی ہے، بلکہ قسم لغوی ہے جیسے رب تعالیٰ فرماتاہے وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾(پ۳۰، التین:۱) انجیر اور زیتون کی قسم۔ لہٰذا یہ اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ارشاد ہوا کہ غیرخدا کی قسم نہ کھاؤ۔