کرنے سے بھی قاصر ہے ۔ لہٰذامخلوق کو طبیب کی طرح انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بھی ضرورت ہے۔ لیکن طبیب کا صدق تجربے سے اور نبی کا صدق معجزے سے معلوم ہوتا ہے۔
خَاتَمُ النَّبِیِّین:
{10}…بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آخری نبی اورماقبل یہود ونصاریٰ کی شریعتوں کو منسوخ اور مذہب ِ مجوس کو ختم کرنے والا بنا کر بھیجا۔ چاند کے شق ہونے، کنکریوں کے تسبیح پڑھنے،جانوروں کے کلام کرنے، انگلیوں سے چشمے پھوٹنے (۱)جیسے روشن معجزات اورواضح علامات کے ذریعے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تائید فرمائی۔ قرآنِ پاک آپ کے بلند ترین معجزات میں سے ایک ہے۔ جس کے ذریعے پورے عرب کو چیلنج کیا گیا۔ نیز وہ باوجود فصیح وبلیغ ہونے کے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قید کرنے، لوٹنے،جان سے مارنے اور شہر بدر کرنے جیسے مظالم ڈھانے پرتو اتر آئے لیکن قرآن پاک کی نظیر پیش کرنے کا چیلنج قبول نہ کرسکے جیسا کہ آیاتِ قرآنیہ سے ثابت ہوتا ہے ۔کیونکہ قرآنِ مجید جیسی خوش بیانی اور حسنِ ترتیب طاقت ِ بشری سے باہر ہے۔ علاوہ ازیں اس میں امم سابقہ کی خبریں بھی ہیں ۔ حالانکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ کسی مخلوق سے پڑھے اور نہ ہی کتب کا مطالعہ کیا پھر بھی غیب کی خبریں دیں جو مستقبل میں سچ ثابت ہوئیں ۔
جیسا کہ فرامین باری تعالیٰ اس پر شاہد ہیں ۔چنانچہ، ارشاد ہوتاہے:
لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللہُ اٰمِنِیۡنَ ۙ مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیۡنَ ۙ (پ۲۶،الفتح:۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک تم ضرور مسجد ِ حرام میں داخل ہوگے اگر اللّٰہ چاہے امن و امان سے اپنے سروں کے بال منڈاتے یا ترشواتے ۔
ایک جگہ ارشاد فرمایا:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب سوال المشرکین ان یریھم النبی…الخ، الحدیث:۳۶۳۶، ج۲، ص۵۱۱۔
دلائل النبوۃ للبیھقی، باب ماجاء فی تسبیح الحصبات…الخ، ج۶، ص۶۴۔۶۵۔
دلائل النبوۃ للبیھقی، باب ذکر البعیر الذی سجد للنبی…الخ، ج۶، ص۲۸۔۳۰۔
صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ الحدیبیۃ، الحدیث:۴۱۵۲، ج۳، ص۶۹۔