انصاف تو نہ ہوا۔
جواب:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے:تجھے نابالغی میں موت دینے کی وجہ یہ تھی کہ میں جانتا تھا کہ تو بڑا ہو کر سرکش یا مشرک ہو جائے گا۔ توتیرے لئے بچپن کی موت بہتر تھی۔ اللّٰہتَوَّابعَزَّوَجَلَّ کی طرف سے معتزلہ یہ جواب بیان کرتے ہیں لیکن ان کے اس جواب پر بھی اعتراض ہے۔
معتزلہ پر اعتراض: اس جواب پر اگر جہنم کی گہرائیوں سے کفار اس طرح عرض گزار ہوں کہ یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ! تو جانتا تھا کہ ہم بڑے ہوکر کفر وشرک میں مبتلا ہوں گے تو تو نے ہمیں بچپن میں ہی موت کیوں نہ دے دی؟ ہم تو اس مسلمان بچے کو ملنے والے مقام سے بھی کمتر پر راضی ہو جاتے۔
جی! اب کیا جواب دیں گے معتزلہ؟ایسی صورت میں یہی کہا جائے گا کہ امورِ الٰہیہ کی شان وجلالت ایسی نہیں کہ معتزلہ اسے اپنے ترازو میں تولتے پھریں ۔
{8}…اللّٰہربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ کی معرفت وطاعت اس کے اور شریعت کے واجب کرنے کی وجہ سے واجب ہے، عقل کی وجہ سے نہیں ۔اس میں بھی معتزلہ کا اختلاف ہے۔نیز کسی چیز کے واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس فعل کے ترک پر نقصان ہو اور شریعت کے وجوب کا مطلب ہے کہ وہ متوقع نقصان کی پہچان کراتی ہے۔ کیونکہ عقل تو اس بات سے قاصر ہے کہ وہ اس نقصان کی پہچان کرائے جو موت کے بعد شہوات کی پیروی کے باعث پیش آ سکتا ہے۔یہ ہے شرعاً وعقلاً وجوب کا معنی اور وجوب میں ان کے مؤثر ہونے کا مفہوم۔ اگراحکامِ شرع کے ترک پر خوفِ عذاب نہ ہوتا تو واجب بھی ثابت نہ ہوتا کیونکہ واجب اسی چیز کو کہتے ہیں جس کا ترک نقصانِ آخرت کا باعث بنے۔
بعثت ِ انبیا:
{9}…بعثت ِ انبیا محال نہیں ہے۔ برخلاف فرقہ براہمہ (۱) کے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’بعثت ِ انبیا بے فائدہ ہے اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ عقل کی موجودگی میں اس کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔‘‘ ہم کہتے ہیں کہ ’’ عقل جس طرح صحت کے لئے مفید اَدویات کی پہچان کرانے سے قاصر ہے اسی طرح بروز قیامت مغفرت کا سبب بننے والے امور تک رہنمائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اپنے آپ کو دین ابراہیمی کا پیروکار سمجھنے والا ہند کے حکیموں کا ایک گروہ۔ (اتحاف السادۃ المتقین، ج۲، ص۳۱۱)