رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖۚ (پ۳،البقرۃ:۲۸۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ربّ ہمارے! اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار(طاقت) نہ ہو۔
{6}…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مخلوق کو ان کے کسی سابقہ جرم اور ثوابِ آئندہ کے بغیر بھی عذاب وتکلیف میں مبتلا کر سکتا ہے۔ جبکہ معتزلہ اس مسئلے میں مختلف ہیں ۔ ہم اہل سنت کی دلیل یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنی مِلْک میں تصرُّف کرتا ہے اور اس کے متعلِّق یہ تصوُّر غلط ہے کہ اس کا تصرُّف اس کی مِلْک سے بڑھ سکتا ہے اور مالک کی اجازت کے بغیر اس کی مِلْک میں تصرُّف کو ظلم کہتے ہیں جو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے محال ہے کیونکہ اس کے علاوہ کسی کی مِلْک ہے ہی نہیں کہ اس میں تصرُّف ظلم قرارپائے۔ہمارے موقف کی دلیل یہ عمل بھی ہے کہ جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے،انہیں تکلیف دی جاتی ہے اور آدمی انہیں طرح طرح کی سختیوں میں مبتلا کرتا ہے ۔ جانوروں کے ساتھ یہ سلوک ان کے کسی سابقہ جرم کی بنا پرتو نہیں ہوتا۔
{7}…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں کے ساتھ جو چاہے سلوک کرے۔ بندوں کے لئے بہتری کی رعایت اس پر واجب نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے بلکہ عقل بھی اس سے انکاری ہے کہ اس پر کوئی چیز واجب ہو۔ خود ارشاد فرماتا ہے:
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾ (پ۱۷،الانبیاء:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا ۔
معتزلہ نے جو قول اختیار کیا کہ بندوں کے لئے بہتری کی رعایت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر واجب ہے تو وہ اس کا جواب دیں ۔
سوال:فرض کریں دو ایسے مسلمان جن میں سے ایک بالغ ہو کر اور دوسرا نابالغی میں فوت ہوا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ محشربالغ کو نابالغ پر فضیلت دیتا اور اسے زیادہ درجات عطا فرماتا ہے کیونکہ اس نے بعد ِ بلوغ ایمان واطاعت کی مشقت برداشت کی ہے اور معتزلہ کے عقیدے کے مطابق اس طرح کرنا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر واجب ہے ۔اگر نابالغ بارگاہِ اِلٰہ میں یہ گزارش کرے کہ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! بالغ کا درجہ مجھ سے زیادہ کیوں ؟ تو جواب عطا ہو: اس لئے کہ وہ بالغ ہوا اور طاعت پر کوشش کی۔ بچہ پھر عرض کرے:یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ! تو نے مجھے کم عمری میں موت دی، تجھ پر واجب تھا کہ مجھے لمبی عمر دیتا تاکہ بالغ ہوکر طاعات بجا لاتا، لیکن تو نے صرف اسے لمبی عمر دی اور اب اسے زیادہ فضیلت عطا کی یہ