Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
356 - 1087
 کیا اور مختار بھی بنایا۔ بہرحال اختیار بندے کا وصف اور ربّ کی مخلوق ہے، اس کا کسب نہیں ۔ جبکہ حرکت ربّ تعالیٰ کی مخلوق، بندے کا وصف اور اس کا کسب ہے۔ حرکت پر بندے کو قدرت عطا کی گئی جو اس کا وصف ہے اور حرکت کو دوسری صفت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جسے قدرت کہتے ہیں اور اس نسبت کے اعتبار سے حرکت کو کسب کا نام دیا جاتا ہے۔ حرکت بندے کے لئے محض جبر نہیں ہو سکتی، کیونکہ بندہ اختیار واضطرار میں ضرور فرق کر سکتا ہے۔
{3}…بندے کا فعل اس کا کسب ہونے کے باوجود مشیت ِ الٰہی سے باہر نہیں ہو سکتا۔ زمین وآسمان میں پلک کی جھپک، قلبی میلان اور آنکھ کی توجہ یہ سب کچھ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قضاو قدرت اور اس کے ارادے ومشیت سے ہی ہوتا ہے۔ نیز اچھا برا، نفع نقصان،کفر وایمان،انکار ومعرفت،کامیابی وناکامی،ہدایت وگمراہی،اطاعت ونافرمانی، شرک وتوحید اسی کی طرف سے ہے، اس کے فیصلوں کو رد کرنے والا اور اس کے احکام کو ٹالنے والا کوئی نہیں ۔ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے ہدایت عطا فرما دے۔ خود ارشاد فرماتا ہے:
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾(پ۱۷،الانبیاء:۲۳)
 ترجمۂ کنز الایمان:اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرے اور ان سب سے سوال ہوگا ۔
مشیت ِ الٰہی کا ثبوت نقلی دلائل سے:
	اُمّت ِ مسلمہ کے اس متفقہ قول سے بھی اس بات پر دلالت ہوتی ہے:مَا شَآءَ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَاْ لَمْ یَکُنْ یعنی: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جو چاہا وہ ہوا جو نہ چاہا نہیں ہوا۔
{4}…تخلیق وایجاد اور بندوں کو شریعت کا پابند بنانا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل واحسان ہے اس پر لازم نہیں ۔
	معتزلہ کا عقیدہ: یہ سب ا مور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر لازم ہیں کہ اس میں بندوں کی بہتری ہے ۔
	جواب:معتزلہ کایہ قول باطل ہے۔ کیونکہ واجب کرنا،حکم دینا اور منع کرنا تو اس کی شان ہے، خود اس پر کوئی امر لازم وواجب کیسے ہوسکتا ہے؟
{5}…اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جائز ہے کہ بندوں پر اس کا م کو لازم کر دے جس کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں ۔ اس موقف میں بھی معتزلہ، ہم اہلسنّت سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ہماری دلیل یہ ہے کہ اگر یہ امر ممکن نہ ہوتا تو اس سے پناہ مانگنے کا سوال محال ہوتا۔ حالانکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے یہ سوال کیا جاتا ہے،جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: