متصف ہے اور ابد تک متصف رہے گا۔ وہ حالات کے تغیر سے پاک ہے۔
{8}…اس بات کا یقین رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا علم قدیم ہے وہ اَزَل سے اپنی ذات وصفات اور مخلوق میں پیش آنے والے احوال کو جانتا ہے۔ مخلوق میں سے جب بھی کسی کو وجود ملتا ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اس وجود کا اس وقت کوئی نیا علم حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ سب کچھ وہ اپنے علمِ اَزَلی سے جانتا ہے۔
{9}…اس پر ایمان لانا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ارادہ قدیم ہے اور حوادثات کو ان کے مخصوص اور مناسب وقت میں وجود میں لانے کے لئے علمِ ازلی کے مطابق،اَزَل سے ہی ان کے متعلق ہوگیا ہے۔
{10}…اللّٰہتعالیٰ صفت ِ علم کے ساتھ عالم،حیات کے ساتھ زندہ، قدرت کے ساتھ قادر،ارادہ کے ساتھ مرید (یعنی ارادہ کرنے والا)، کلام کے ساتھ متکلم (یعنی کلام کرنے والا)،سماعت کے ساتھ سننے والا اور بصارت کے ساتھ دیکھنے والا ہے۔ اس کی یہ صفات بھی صفاتِ قدیمہ ہیں ۔
تیسرے رکن کی تفصیل
افعالِ الٰہیہ کی معرفت حاصل کرنا یہ بھی دس اصولوں پر مشتمل ہے۔
{1}…یہ عقیدہ رکھنا کہ عالَم میں ہونے والا ہر واقعہ اسی کا فعل، اسی کی تخلیق اور اسی کی ایجاد ہے۔ ان سب چیزوں کا خالق وموجد صرف وہی ہے۔ اس نے مخلوق اور ان کے رزق کو پیدا فرمایا اور ان کے لئے قدرت وحرکت ایجاد فرمائی۔ بندوں کے تمام افعال اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق اور اس کے زیر قدرت ہیں ۔ اس پردرج ذیل قرآنی آیات شاہد ہیں ۔ چنانچہ، فرمان باری تعالیٰ ہے:
اَللہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۫ (پ۲۴،الزمر:۶۲) ترجمۂ کنز الایمان:اللّٰہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾ (پ۲۳،الصّٰفّٰت:۹۶) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللّٰہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو۔
{2}…بندوں کی حرکات کا خالق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ جب کوشش کرے تو حرکات پر اس کا کوئی اختیار ہی نہ ہو۔بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے بندے کے لئے طاقت بھی پیدا فرمائی اور تقدیر بھی۔ اختیار بھی پیدا