Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
354 - 1087
 وہی ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
{5}…یہ اعتقاد رکھناکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   سمیع و بصیر (یعنی سنتا دیکھتا) ہے۔ پوشیدہ خیالات اور مخفی وساوس واَفکار کچھ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اندھیری رات میں صاف چٹان پر چلنے والی سیاہ چیونٹی کے چلنے کی آواز بھی اس کی سماعت سے باہر نہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سننے دیکھنے والا کیوں نہ ہو؟ کہ سماعت وبصارت یقینا کمال ہے نقص نہیں ، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مخلوق خالق سے کمال میں زیادہ اور اپنے بنانے والے سے ارفع واعلیٰ ہو؟
	 حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے بت پرست چچا آزر کو ان الفاظ سے دلیل دی: 
اِذْ قَالَ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیۡ عَنۡکَ شَیْـًٔا ﴿۴۲﴾ (پ۱۶،مریم:۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان:جب اپنے باپ سے بولا(۱)اے میرے باپ! کیوں ایسے کو پوجتا ہے جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ کچھ تیرے کام آئے۔
{6}…اس پر ایمان لانا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  صفت کلام کے ساتھ متصف ہے۔ اس کا یہ وصف اس کی ذات کے ساتھ قائم اور حروف وآواز سے منزہ (پاک) ہے۔ بلکہ جس طرح اس کا وجود کسی دوسرے کے وجود کے مشابہ نہیں ، اسی طرح اس کا کلام بھی کسی اور کے کلام کی مثل نہیں اور درحقیقت کلام ،کلامِ نفسی ہے۔آواز تو محض بیانِ مقصود کے لئے ادائیگی حروف کا کام دیتی ہے۔
{7}…یہ عقیدہ رکھنا کہ صفت ِ کلام ذاتِ خدا کے ساتھ قائم اور قدیم ہے بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی تمام صفات قدیم ہیں ۔ کیونکہ اس کی ذات کو حوادث کا لاحق ہونا محال ہے کہ حوادث تو بدلتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح اس کی صفات کا بھی قدیم ہونا ضروری ہے، تاکہ اس پر نہ تغیرات طاری ہوں اور نہ ہی حوادث لاحق ہوں ۔ وہ عمدہ صفات کے ساتھ اَزَل سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مفسرشہیر ، حکیم الامت مفتی احمد یار خانعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاناپنی تفسیر ’’نور العرفان‘‘ میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں :’’ یہاں باپ سے مراد چچا آزرہے نہ کہ حقیقی والد یعنی تارخ اور چچا کو عرف میں باپ کہا جاتاہے کیونکہ حضرت آدم (عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام) سے لے کر حضرت عبداللّٰہ (رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) تک حضور کے آباء و امہات میں کوئی مشرک نہیں ہوا ۔ رب (عَزَّوَجَلَّ) فرماتا ہے : وَ تَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیۡنَ ﴿۲۱۹﴾ (پ۱۹،الشعراء:۲۱۹)‘‘ہم آپ کے نور کی گردش کو پاک پشتوں اور پاک شکموں میں دیکھ رہے ہیں ۔‘‘