Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
353 - 1087
لَوْکَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا ۚ (پ۱۷،الانبیاء:۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اگر آسمان و زمین میں اللّٰہ کے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ تباہ ہوجاتے۔
دوسرے  رکن کی تفصیل
ایمان کے بنیادی اَرکان میں سے دوسرا رکن صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے
 اس کے بھی دس اُصول ہیں ۔
{1}…یہ اعتقاد رکھنا کہ خالقِ عالَم قادرِ مطلق ہے اور اس کا یہ فرمان برحق ہے:
وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرُۨ ﴿۱﴾ۙ (پ۲۹،الملک:۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
	کیونکہ عالَم اپنی بناوٹ وپیدائش کے اعتبار سے مضبوط ومنظم ہے۔ اگر کوئی شخص صنعت میں عمدہ اور نقش ونگار سے خوب آراستہ ریشمی کپڑا دیکھ کرکہے کہ یہ کسی بے قوت مُردے یا بے اختیار انسان کی کاریگری ہے، توایسا کہنے والا وہی ہوگا جوعقل سے پیدل اورزمرۂ جہلا میں شامل ہو۔
{2}…یہ عقیدہ رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   تمام موجودات کا علم رکھنے والا اور تمام مخلوقات پر حاوی ہے۔ چنانچہ، فرمان باری تعالیٰ ہے :
وَمَا یَعْزُبُ عَنۡ رَّبِّکَ مِنۡ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ (پ۱۱،یونس:۶۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تمہارے ربّ سے ذرّہ بھر کوئی چیز غائب نہیں زمین میں نہ آسمان میں ۔
	اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان بھی بالکل حق اور سچ ہے:
وَہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ﴿۲۹﴾٪  (پ۱،البقرۃ:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اوروہ سب کچھ جانتا ہے۔
{3}…اس بات پر ایمان لانا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  زندہ ہے کیونکہ جس ذات کے لئے علم و قدرت ثابت ہو اس کے لئے یقینا حیات بھی ثابت ہو گی۔
{4}…اس بات کا یقین رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اپنے کاموں کا ارادہ فرمانے والا ہے۔ ہر موجود کا وجود اس کی مشیت سے اور ہرچیز کا صدور اس کے ارادے سے ہے۔ کسی بھی چیز کو پہلی دفعہ تخلیق کرنے والا اور دوسری دفعہ وجود دینے والا