وَ ہُوَ مَعَکُمْ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمْ ؕ(پ۲۷،الحدید:۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ (اللّٰہ ) تمہارے ساتھ ہے،تم کہیں ہو۔
اس آیت ِ مبارَکہ میں بالاتفاق معیت سے احاطہ اور علم(یعنی ہر چیز کو گھیرے میں لینا اور سب کو جاننا) مراد لیا گیا ہے ۔ نیز ان فرامین مصطفیٰ (میں بھی تاویل کی گئی)ہے: قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰن۔ (۱)
اس میں انگلیوں سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت وغلبہ مراد لیا گیا ہے۔‘‘اور’’ اَلْحَجَرُ الْاَسْوَدُ یَمِیْنُ اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہ ۔ (۲)
اس میں دائیں ہاتھ سے عزت وبزرگی مراد لی گئی ہے۔ اگر یہ تاویلات نہ کی جاتیں تو محال لازم آتا۔اسی طرح استوا کے ظاہری معنی ٹھہرنا اور قرار پکڑنا مراد لئے جاتے تو یہ بھی ماننا پڑتا کہ ٹھہرنے اور قرار پکڑنے والا ایک جسم ہے جو عرش سے مس ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ وہ جسم عرش کے برابر ہے یا اس سے چھوٹا بڑا حالانکہ یہ سب چیزیں محال ہیں اور محال کی طرف لے جانے والی چیز بھی محال ہوتی ہے۔
{9}…یہ اعتقاد رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ شکل ومقدار اور جہات واطراف سے پاک ہے لیکن جنتی جنت میں سر کی آنکھوں سے اس کا دیدار کریں گے ۔جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:
وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾ (پ۲۹،القیامۃ:۲۲،۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان:کچھ منھ اس دن تروتازہ ہوں گے ۔اپنے ربّ کو دیکھتے۔
ہاں ! دُنیا میں ( بحالت ِ بیداری) اس کا دیدار ممکن نہیں ۔ اس کی تصدیق اس آیت ِ قرآنیہ سے ہوتی ہے:
لَا تُدْرِکُہُ الۡاَبْصَارُ۫ وَ ہُوَ یُدْرِکُ الۡاَبْصَارَۚ (پ۷،الانعام:۱۰۳)
ترجمۂ کنزالایمان:آنکھیں اسے احاطہ نہیں کرتیں اور سب آنکھیں اس کے احاطہ میں ہیں ۔
{10}…یہ عقیدہ رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ وہ یکتاہے۔ کوئی اس کی مثل نہیں ۔وہ تخلیق کرنے اور عدم کو وجود دینے میں منفرد اورایجادات اور عجائب وغرائب پیدا کرنے میں خود مختار ہے۔ اس کا کوئی مثل نہیں جو اس کا ہمسر بن سکے اور نہ کوئی مقابل ہے جو اس سے منازعت وعداوت کرے۔اس کی دلیل یہ آیت ِ قرآنی ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم، کتاب القدر، باب تصریف اللّٰہ تعالٰی القلوب…الخ، الحدیث:۲۶۵۴، ص۱۴۲۷۔
2…الکامل فی ضعفاء الرجال، اسحاق بن بشر:۱۷۲، ج۱، ص۵۵۷۔
المصنف لعبد الرزاق، باب الرکن من الجنۃ، الحدیث:۸۹۵، ج۵، ص۲۸۔