Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
351 - 1087
ممکن ہے کہ خالقِ باری تعالیٰ کسی جسم میں آجائے؟ حالانکہ ازل میں صرف وہی تھا، اس کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔ اَجسام واَعراض سب اس نے بعد میں پیدا فرمائے۔ 
	ان مذکورہ چھ اُصولوں کی روشنی میں واضح ہو گیا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  موجود اور بذاتِ خود قائم ہے۔وہ جوہرو عرض اور جسم نہیں اس کے علاوہ تمام کا تمام عالَم جوہر، عرض اور جسم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ وہ کسی کے مشابہ ہے اور نہ کوئی اس کے مشابہ۔ وہ زندہ اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے۔ کوئی شے اس کی مثل نہیں اور ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ مخلوق خالق کے، ماتحت حاکم کے اور تصویر مصور کے مشابہ ہو۔اجسام واعراض سب کے سب اسی کی تخلیق وایجاد ہے ۔ لہٰذا ان چیزوں کا اس ذات کے مشابہ ومماثل ہونا قطعاً ناممکن ہے۔
{7}…اس بات پر ایمان لانا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سمت وجہت کی تخصیص سے پاک ہے۔ (اس پر تین دلیلیں :) (۱)… سمت اوپر، نیچے، دائیں ، بائیں ، آگے پیچھے کو کہتے ہیں ، ان سب سمتوں کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے خلقت ِ انسانی کے واسطے سے پیدا فرمایا۔ (۲)…بالفرض اس کے لئے کوئی سمت ہو تو وہ جواہر کی طرح کسی مکان میں سمایا ہو گا یاعرض کی طرح جوہر کے ساتھ خاص ہو گا، جب اس کا جوہر وعرض ہونا محال ثابت کیا جا چکاتو اس کا کسی سمت کے ساتھ مختص ہونا بھی محال ہے۔ (۳)…اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ عالَم کے اوپر ہوتا تو اس کے محاذی یعنی مقابل بھی ہوتا اور کسی جسم کی محاذی چیز اس کی مثل ہو گی یا چھوٹی بڑی۔یہ تینوں صورتیں مقدار کی محتاج ہیں ۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	پھر دعا مانگتے ہوئے آسمان کی طرف ہاتھ کیوں اُٹھائے جاتے ہیں ؟ جواب،دعا کا قبلہ آسمان ہے اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دعاؤں کو سننے والا عالی صفات کا مالک اور بزرگ وبرتر ہے چونکہ اوپر والی جہت بلندی پر دلالت کرتی ہے اور وہ ذات قوت وغلبہ میں سب سے بلندہے۔
{8}…اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اپنی شایان شان عرش پر اسی طرح استوا فرمائے ہوئے ہے جو استوا سے اس نے مراد لیا ہے۔(متشابہ آیات میں ) اہل حق تاویل کرنے پر مجبور ہوئے جیساکہ اہل باطل اس آیت میں تاویل کرنے پر مجبور ہوئے ۔ چنانچہ،ا رشاد باری تعالیٰ ہے: