ظاہر و باہر ہے کہ کوئی بھی حادث چیز پیدا ہونے کے لئے کسی پیدا کرنے والے سبب سے بے نیاز نہیں اور عالم حادث ہے تو لازماً یہ بھی اپنے وجود کے لئے کسی سبب کا محتاج ہے۔لہٰذاہمارا قول کہ ’’حاد ث اپنی پیدائش کے لئے کسی سبب سے بے نیاز نہیں ‘‘واضح ہے ۔ کیونکہ ہر حادث کے لئے ایک خاص وقت ہے اور عقل اس بات کو ممکن جانتی ہے کہ حادث شے اپنے مخصوص وقت سے پہلے یا بعد میں ظہور پذیر ہو تو اس کا ایک معین وقت میں ہونا اس سے پہلے یا بعد میں نہ ہونا وقت کی تخصیص کرنے والے کے وجود کا تقاضا کرتا ہے اور ہمارے قول ’’عالم حادث ہے‘‘کی دلیل یہ ہے کہ اجسام حرکت وسکون کی حالت سے باہر نہیں ہو سکتے اور یہ دونوں حالتیں حادث ہیں اور جس چیز کو حوادث لاحق ہوتے ہیں وہ بھی حادث ہوتی ہے۔
{2}…اس بات پر ایمان لانا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ قدیم، اَزَلی اور ہمیشہ سے ہے۔ ہر زندہ و بے جان چیز سے پہلے اس ذات کا وجود ہے اس سے پہلے کچھ بھی نہیں ۔
{3}…اس بات پر یقین رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اَزَلی و اَبدی ہے (یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا)، وہی اوّل، وہی آخر،وہی ظاہر، وہی باطن۔ اس کے وجود کا کوئی اختتام وانجام نہیں کیونکہ قدیم معدوم نہیں ہو سکتا۔
{4}…اس پر ایمان لانا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جوہر بھی نہیں اور اس کی ذات کسی جگہ میں سمائی ہوئی بھی نہیں بلکہ وہ مکان کی نسبتوں سے بلند وبرتر ہے۔اس پر دلیل یہ ہے کہ ہر جوہرکسی جگہ میں گِھرا ہوا اور اس جگہ کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ جس کی دو صورتیں بنتی ہیں :(۱)…اسی جگہ ساکن ہوگایا(۲)…وہاں سے حرکت کرتا ہوگا۔یعنی وہ ان دونوں حالتوں میں سے کسی ایک میں ہوگا اور یہ دونوں حادث ہیں اور جس ذات کو حوادث لاحق ہوں وہ بھی حادث ہوتی ہے۔
{5}…یہ عقیدہ رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے کوئی جسم نہیں جو جواہر سے مرکب ہواس لئے کہ جواہر سے مرکب چیز کا نام جسم ہے اور جب اس ذات کا کسی مکان میں سمایا ہوا جوہر ہونا محال ہے تو اس کا جسم ہونا بھی باطل ہے کیونکہ ہر جسم کسی مکان کے ساتھ مختص اور جوہر سے مرکب ہوتا ہے اور جوہرکا سکون وحرکت، شکل ومقدار اور جدا وجمع ہونے جیسی علاماتِ حدوث سے خالی ہونا محال ہے۔
{6}…یہ اعتقاد رکھنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات عرض نہیں جو کسی جسم کے ساتھ قائم یا کسی جگہ میں داخل ہو کیونکہ عرض وہ ہوتا ہے جو کسی جسم کے ساتھ قائم ہو اور ہر جسم یقینا حادث ہے اور اس کا خالق اس جسم سے پہلے موجود تھا۔ تو یہ کیسے