امام ابن حجر عَسْقَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی(متوفی۸۵۲ھ)نے ایک جلد میں اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کی احادیث کی تخریج کی اور اس میں اُن احادیث کو بیان کیا جن کے متعلق ان کے استاذ محترم نے توقف کیاتھا…اورحضرت سیِّدُنا علامہ قاسم بن قُطْلُوبُغا حَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی(متوفی ۸۷۹ھ)نے ’’تُحْفَۃُ الْاِحْیَاء فِیْ مَا فَاتَ مِنْ تَخْرِیْجِ اَحَادِیْثِ الْاِحْیَاء‘‘کے نام سے تخریج کی۔(۱)
سفرآخرت :
عمرکے آخری حصہ میں اگرچہ حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیکازیادہ تروقت عبادت میں گزرتااور شب وروز مجاہدات وریاضا ت میں بسر کرتے تھے مگرتصنیف وتالیف کا مشغلہ بالکل ترک نہ فرمایا۔ اصول فقہ میں آپ کی اعلی درجہ کی تصنیف ’’اَ لْمُسْتَصْفٰی‘‘ ۵۰۴ھ کی تصنیف ہے۔اس کے ایک برس بعدآپ نے 55سال کی عمر میں بروزپیر۱۴جمادی الآخر ۵۰۵ھ میں بمقام طابران (طوس)میں انتقال فرمایا اور وہیں مدفون ہوئے ۔ وراثت میں اس قدر مال چھوڑا جو آپ کے اہل وعیال کے لئے کافی تھا حالانکہ آپ کوبہت زیادہ مال وزر پیش کیا گیا مگر آپ نے قبول نہ کیااورکبھی کسی کے آگے دست سوال دراز نہ کیا۔اولاد میں صرف بیٹیاں ہی سوگوار چھوڑیں ۔
حضرت سیِّدُناامام ابن جوزِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (متوفی۵۹۷ھ) نے’’اَلثُّبَاتُ عِنْدَالْمَمَات‘‘میں آپ کے وصال کا واقعہ حضرت سیِّدُنااحمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی(متوفی۵۲۰ھ ) کی زبانی یہ لکھا ہے کہ پیر کے دن حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی صبح کے وقت بستر سے اٹھے ۔وضو کرکے نماز پڑھی پھر کفن منگوایا اور آنکھوں سے لگا کر فرمایا: ’’میرے رب عَزَّوَجَلَّ کا حکم سر آنکھوں پر۔‘‘اتنا کہااور چہرہ قبلہ رو کرکے پاؤں پھیلا دیئے۔ لوگوں نے دیکھا توروح قفس عنصر ی سے پرواز کرچکی تھی۔(۲)
{اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم}
٭…٭…٭…٭…٭…٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…کشف الظنون،ج۱،ص۲۴۔
اتحاف السادۃ المتّقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۵۵۔
2…الثبات عند الممات، ص۱۷۸۔
طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی، ج۶، ص۲۱۱۔
اتحاف السادۃ المتّقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۱۴