الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوۡقِیۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾ عَلٰۤی اَنۡ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَکُمْ وَ نُنۡشِئَکُمْ فِیۡ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۶۱﴾ وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوۡلٰی فَلَوْلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۶۲﴾ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَحْرُثُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾ ءَاَنۡتُمْ تَزْرَعُوۡنَہٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوۡنَ ﴿۶۴﴾ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰہُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَکَّہُوۡنَ ﴿۶۵﴾ اِنَّا لَمُغْرَمُوۡنَ ﴿ۙ۶۶﴾ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوۡمُوۡنَ ﴿۶۷﴾ اَفَرَءَیۡتُمُ الْمَآءَ الَّذِیۡ تَشْرَبُوۡنَ ﴿ؕ۶۸﴾ ءَاَنۡتُمْ اَنۡزَلْتُمُوۡہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنۡزِلُوۡنَ ﴿۶۹﴾ لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰہُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْکُرُوۡنَ ﴿۷۰﴾ اَفَرَءَیۡتُمُ النَّارَ الَّتِیۡ تُوۡرُوۡنَ ﴿ؕ۷۱﴾ ءَاَنۡتُمْ اَنۡشَاۡتُمْ شَجَرَتَہَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنۡشِـُٔوۡنَ ﴿۷۲﴾ نَحْنُ جَعَلْنٰہَا تَذْکِرَۃً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیۡنَ﴿ۚ۷۳﴾(پ۲۷،الواقعۃ:۵۸تا۷۳)
میں مرنا ٹھہرایا،اور ہم اس سے ہارے نہیں ۔کہ تم جیسےاور بدل دیں اور تمہاری صورتیں وہ کر دیں جس کی تمہیں خبر نہیں اوربے شک تم جان چکے ہوپہلی اٹھانپھر کیوں نہیں سوچتے۔ تو بھلا بتاؤ تو جو بوتے ہو۔ کیا تم اس کی کھیتی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں ۔ ہم چاہیں تواسے روندن کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر چٹّی(تاوان)پڑی۔ بلکہ ہم بے نصیب رہے۔ تو بھلا بتاؤ تو وہ پانی جو پیتے ہو۔ کیا تم نے اسے بادل سے اُتارا یا ہم ہیں اتارنے والے۔ ہم چاہیں تو اسے کھاری کردیں پھر کیوں نہیں شکر کرتے۔تو بھلا بتاؤ تو وہ آگ جو تم روشن کرتے ہو۔ کیا تم نے اس کا پیڑ پیدا کیا یا ہم ہیں پیدا کرنے والے۔ ہم نے اسے جہنّم کی یادگار بنایا اورجنگل میں مسافروں کا فائدہ۔
ذرا سی عقل رکھنے والا شخص بھی اگر ان آیات کے مضامین میں تھوڑا سا غور کرے اور زمین وآسمان کی رنگا رنگ مخلوق اور حیوانات ونباتات کی انوکھی پیدائش کی طرف نظر کرے، تو یہ بات اس پر مخفی نہ رہے گی کہ اس تعجب خیز معاملہ اور مضبوط ترکیب کا ضرور کوئی بنانے والاہے جو انہیں منظم رکھتا ہے اور لازماً کوئی ایسا ہے جو انہیں مضبوط کرتا اور ان کا مقدر بناتا ہے۔بلکہ عین ممکن ہے کہ مخلوق کی اصل وپیدائش اس بات کی گواہی دے کہ یہ تمام اشیاء اس ذات کے تابع رہنے پر مجبور اوراس کی مشیت کے مطابق بدلتی ہیں ۔
وجود باری تعالیٰ پر عقلی دلائل:
انسانی فطرت اور قرآنی دلائل بیان کرنے کے بعد مزید دلائل کی ضرورت تو باقی نہیں رہتی مگراپنے موقف کو مزید مدلَّل کرنے اور مناظر علما کی پیروی کرنے کی کوشش میں کچھ عقلی دلائل پیش کئے جاتے ہیں ۔چنانچہ، یہ بات عقلاً بالکل