Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
347 - 1087
{3}… افعال الٰہیہ کی معرفت: یہ بھی دس اصولوں پر مشتمل ہے،یعنی اس بات کا اعتقاد رکھناکہ (۱)بندوں کے افعال کا خالق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے (۲)بندے محض کوشش کرتے ہیں (۳)یہ افعال اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مرضی سے ہی سر انجام پاتے ہیں (۴)وہی پیدا کرنے اور بنانے کی فضیلت سے متصف ہے (۵)اسے جائز ہے کہ وہ کسی پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالے اور (۶)بے گناہ کو سزا دے (۷)نیکوکاروں کورعایت دینا اس پر واجب نہیں (۸)ہم پر واجب امور کا سبب شریعت ہے نہ عقل (۹)اس کا انبیائے کرامعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مبعوث فرمانا حق ہے اور (۱۰) ہمارے پیارے نبی حضرت سیِّدُنامحمدمصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نبوت بالکل ثابت ہے جسے معجزات کی تائید حاصل ہے۔
{4}…منقول روایات کوحق وسچ جاننا:یہ بھی دس اصولوں پر مشتمل ہے(۱)مر کر دوبارہ اٹھنے (۲)قیامت قائم ہونے (۳)منکر نکیر کے سوالات (۴)عذابِ قبر (۵)میزانِ عمل اور (۶)پل صراط کو حق جاننا(۷)اس بات پر ایمان لانا کہ جنت ودوزخ کی تخلیق ہوچکی ہے (۸)امامت وخلافت کے احکام (۹) ان کی شرائط ماننا اور(۱۰) درجوں کے مطابق صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی فضیلت تسلیم کرنا۔
پہلے رکن کی تفصیل
ارکانِ ایمان میں سے پہلارکن ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کی وحدانیت کو تسلیم کرنا 
ہے۔ اس رکن کے دس اصول ہیں ۔
{1}…وجودِ بارِی تعالیٰ کی معرفت : پہلی چیز جس کے ذریعے انوار کی روشنی اور معتبر راستے کی ہدایت نصیب ہوتی ہے وہ قرآنِ پاک کی راہنمائی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے کلام سے بڑھ کر کسی کا کلام نہیں ۔
وجود باری تعالیٰ پر قرآنی دلائل:
{۱}
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِہٰدًا ۙ﴿۶﴾ وَّ الْجِبَالَ اَوْتَادًا ﴿۪ۙ۷﴾ وَّ خَلَقْنٰکُمْ اَزْوَاجًا ۙ﴿۸﴾ وَّ جَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا ۙ﴿۹﴾ وَّ جَعَلْنَا الَّیۡلَ لِبَاسًا ﴿ۙ۱۰﴾ وَّ جَعَلْنَا
ترجمۂ کنزالایمان:کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیااور پہاڑوں کومیخیں اور تمہیں جوڑے بنایااور تمہاری نیند کو آرام کیا اوررات کوپردہ پوش کیااور دن کو روزگار