تیسری فصل: الرسالۃ القدسیہ فی قوائد العقائد
یہ رسالہ قدس والوں کے لئے مرتب کیا گیا ہے جو عقائد ِ اہل سنت کے روشن دلائل پر مشتمل ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم
سب خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے اہلِ سنت و جماعت کو انوارِ یقین دے کر سب سے ممتاز کر دیا۔ اہلِ حق کو ارکانِ دین کی طرف دعوت دینے کے لئے منتخب فرمایا۔ انہیں بدمذہبوں کی بدمذہبی اور گمراہوں کی گمراہی سے بچا کر رسولوں کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی اتباع واطاعت کرنے کی توفیق بخشی اور ان کے لئے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے طریقۂ کار پر چلنا آسان کر دیا حتی کہ انہوں نے عقلی تقاضوں کو مضبوط رسی سے تھام لیا اور اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَامکے عقائد واعمال کو واضح راستے کے ذریعے اختیار کیا۔ پھر عقلی نتائج اور منقول شرعی احکام سب کو قبول کیا اور ثابت کیا کہ کلمۂ طیبہلَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہجسے پڑھنا اگرچہ ضروری ہے لیکن یہ پڑھنا اس وقت تک بے فائدہ اور لاحاصل ہے جب تک ان اصول وارکان کو نہ جان لیا جائے جن پر یہ کلمہ منحصر ہے۔ اہل حق اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ کلمۂ توحیدورسالت اگرچہ الفاظ میں مختصر ہے لیکن اس کے معانی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات و صفات وافعال اوررسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صداقت کو ثابت کرتے ہیں ۔نیز انہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ ایمان کے چار بنیادی رکن ہیں اور ہر رکن دس اصولوں پر مشتمل ہے۔
ایمان کے چار بنیادی اَرکان
{1}…ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت: یہ دس اصولوں پر مشتمل ہے،یعنی اس بات پر ایمان لانا کہ(۱)اللّٰہ تعالیٰ موجود ہے (۲)قدیم ہے (۳)باقی ہے (۴)نہ تووہ جو ہر ہے(۵) نہ جسم اور (۶) نہ ہی عرض (۷)کوئی جہت وسمت اس کے لئے مختص نہیں (۸)وہ کسی مکان پر ٹھہرا ہوا نہیں (۹)آخرت میں اس کا دیدار ہو گااور(۱۰) وہ ایک ہے۔
{2}…صفاتِ باری تعالیٰ کی معرفت:یہ بھی دس اصولوں پر مشتمل ہے، یعنی اس بات کا یقین رکھنا کہ (۱)اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ زندہ (۲)عالم موجودات (۳)قادرمطلق (۴)سنتا (۵)دیکھتا اور (۶)کلام فرماتا ہے (۷)اسے حادثات لاحق نہیں ہوسکتے (۸،۹،۱۰)اس کا علم،ارادہ اور کلام اَزَلی وقدیم ہے۔