مذکورہ تمام بحث کا مقصود:
اب چونکہ ان امور میں حد اعتدال کی مزید وضاحت علم مکاشفہ میں داخل اور طویل کلام کی محتاج ہے۔ لہٰذا ہم اس کی گہرائی میں نہیں جاتے۔ ہمارا مقصود صرف یہ ثابت کرنا تھا کہ ظاہر وباطن آپس میں مطابقت رکھتے ہیں مخالفت نہیں ۔تو مذکورہ (مقربین کے ساتھ خاص، اسرار کی) پانچ اقسام کے بیان نے بہت سے امورمنکشف کر دیئے۔ عقائدکا جس قدربیان ہم تحریر کرچکے، ہمارے خیال میں عوام کے لئے اتناکافی ہے کہ اوّلاً اس سے زیادہ کا حکم نہیں دیا جاتا۔ ہاں ! جب بدمذہبیت پھیلنے کا اندیشہ ہو تو پھر عقائد کے اگلے درجے کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہوگی جس میں مختصر اور روشن دلیلیں ہوں ، زیادہ گہرائی نہ ہو۔
ہم اس کتاب میں وہ روشن دلائل لکھتے اور صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں جو ہم نے اہلِ قدس کے لئے اپنے رسالے ’’اَلرِّسَالَۃُ الْقُدْسِیَّۃ فِی قَوَاعِدِ الْعَقَائِد‘‘میں لکھا ہے۔یہ رسالہ اس کتاب کی تیسری فصل میں مذکور ہے۔
{…دودن اوردوراتیں …}
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ84 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’دنیاسے بے رغبتی اور امیدوں کی کمی ‘‘ صَفْحَہ76پرہے: حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشادفرماتے ہیں : ’’کیامیں تمہیں ان دودنوں اوردوراتوں کے بارے میں نہ بتاؤں جن کی مثل مخلوق نے نہیں سنی :(۱)… ایک دن وہ ہے کہ جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے آنے والاتیرے پاس رضائے الٰہی کامژدہ لے کرآئے گا یا اس کی ناراضی کاپیغام۔ (۲)…دوسرا دن وہ ہے کہ جب تواپنانامۂ اعمال لینے کے لئے بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوگا اوروہ نامۂ اعمال تیرے دائیں ہاتھ میں دیاجائے گایا بائیں میں ۔ (اور دوراتوں میں سے): (۱)…ایک رات وہ ہے جو میت اپنی قبر میں گزارے گی اوراس سے پہلے اس نے ایسی رات کبھی نہیں گزاری ہوگی۔ (۲)…دوسری رات وہ ہے جس کی صبح کوقیامت کا دن ہوگا اورپھر اس کے بعد کوئی رات نہیں آئے گی۔‘‘