میانہ روی اختیار کرنے والا گروہ:
اشاعرہ: نے راہِ اعتدال اختیار کی یوں کہ انہوں نے صفاتِ خداوندی سے متعلق ہر امر میں تاویلات کو روا (جائز) جانا اور امورِ آخرت کے متعلقات کو ان کے ظاہری معنی پر رکھا اور ان میں تاویل کرنے سے منع کیا۔
تاویلات کے متعلق معتزلہ اور فلاسفہ کا نظریہ:
معتزلہ: مذکورہ سب گروہوں سے آگے بڑھ گئے، انہوں نے صفاتِ الٰہیہ میں سے رویت اور اس کے سمیع وبصیر ہونے میں تاویل کی، وہ معراج رسول میں بھی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں :معراج جسمانی نہیں تھی۔ عذابِ قبر، میزانِ عمل،پل صراط اور تمام اُخروی امور میں تاویل کرتے ہیں ۔ ہاں ! اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ مر نے کے بعد اٹھناہے اورجنت ایک حقیقت ہے ، جہاں کھانا پینا، نکاح کرنااور لطف اُٹھانا ہے۔ وہ جہنم کی حقیقت کو بھی تسلیم کر تے اور مانتے ہیں کہ اس کا ایک محسوس وجود ہے جس میں کھالوں کو جلانے اور چربیوں کو پگھلانے کی صلاحیت موجود ہے ۔
فلاسفہ: تو معتزلہ سے بھی آگے نکل گئے۔ انہوں نے ہر اس بات میں تاویل کی جس کا تعلق روزِ آخرت سے ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ تکالیف ولذّات محض عقلی اور روحانی ہیں ۔وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے منکر ہیں ۔ ان کا نظریہ ہے کہ نفس باقی رہیں گے اور انہیں ملنے والی جزا یا سزا اعضاء کو محسوس نہ ہو گی۔
قول فیصل:
بہرحال یہ سب فرقے حد سے بڑھے ہوئے ہیں ۔ ان فرقوں کے حد سے بڑھنے اور حنابلہ کے تاویل کو بالکل چھوڑ دینے کے بیچ ایک معتدل اور مخفی راستہ ہے جس پر صرف وہی مطلع ہو سکتے ہیں جنہیں محض سن کر نہیں بلکہ نورِ الٰہی سے امور کے اِدراک کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ ان حضرات پر جب امور کے اسرار کی حقیقت منکشف ہوتی ہے تو وہ سنی ہوئی باتوں اور اس بارے میں وارد ہونے والے الفاظ کی طرف توجہ کرتے ہیں ۔ پس جو ان حضرات کے مشاہدہ کئے ہوئے نورِ یقین کے موافق ہو اسے برقرار رکھتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہو اس میں تاویل کرتے ہیں اور جو حضرات ان امور پر محض سننے کے واسطے سے مطلع ہوتے ہیں وہ نہ توثابت قدم ہوتے ہیں اور نہ اپنے موقف سے مطمئن۔ محض سننے پر اکتفا کرنے والے حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کے مقام کے لائق ہیں ۔