(۲)…قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰن یعنی: مومن کا دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ (۱)
(۳)…اِنِّیْ لَاَجِدُ نَفْسَ الرَّحْمٰنِ مِنْ جَانِبِ الْیَمَنیعنی:مجھے یمن سے خوشبوئے رحمن آتی ہے۔(۲) اسی طرح اصحابِ ظواہر بھی تاویلات کے حق میں نہیں ۔
تاویل کرنے سے روکنے کی وجہ:
حضرت سیِّدُناامام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کے متعلق ہمارا حسن ظن ہے کہ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ استوا سے مراد قرار پکڑنا اور نزول سے مرادجسمانی طور پر اترنا نہیں ہے۔ آپ نے مخلوق کی اصلاح اور تاویلات کے دروازے کو بند کرنے کے لئے تاویل سے منع فرمایا کیونکہ اگر تاویلات کی کھلی چھوٹ دے دی جائے تومعاملہ گہرا ہو جائے گا، ہاتھ سے نکل جائے گا اور حد سے بڑھ جائے گا کیونکہ جو معاملہ حدِّاعتدال سے نکل جائے اسے سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے اس طرزِ عمل میں کوئی مضائقہ نہیں ، اس پر دیگر اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ لفظوں کو اسی طرح رہنے دو جس طرح وہ وارد ہوئے ہیں ۔
لفظ ’’استوا‘‘ کے متعلق عقیدہ:
حضرت سیِّدُنا امام مالکعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق سے کسی نے ’’استوا‘‘(۳)کا مفہوم دریافت کیا تو فرمایا: ’’لفظ ِ استوا کا معنی معلوم ہے، لیکن یہ استوا کس طرح کا ہے؟ اس کی ہمیں خبر نہیں ، بہرحال اس پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کے متعلق پوچھنا بدعت ہے۔‘‘ (۴)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح مسلم، کتاب القدر، باب تصریف اللّٰہ تعالٰی القلوب…الخ، الحدیث:۲۶۵۴، ص۱۴۲۷۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ، الحدیث:۱۰۹۷۸، ج۳، ص۶۴۹، بتغیرِالفاظٍ۔
3…ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ۟(پ۸، الاعراف:۵۴) اوراَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی ﴿۵﴾ (پ۱۶طٰہٰ:۵) میں وارِد لفظ ’’ اِسْتَوٰی ‘‘ کے متعلق سوال تھا۔
4…تذکرۃ الحفاظ للذھبی، الطبقۃ الخامسۃ، ج۱، ص۱۵۵۔