حتی کہ ان آیاتِ قرآنیہ میں بھی:
{۱}
وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمْ وَ تَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۶۵﴾ (پ۲۳، یٰسٓ :۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔
{۲}
وَقَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمْ لِمَ شَہِدۡتُّمْ عَلَیۡنَا ؕ قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ
(پ۲۴، حمٓ السجد ۃ:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے تم نے ہم پر کیوں گواہی دی وہ کہیں گی ہمیں اللّٰہ نے بلوایا جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی۔
اسی طرح منکر نکیرکے سوالات،میزانِ عمل،پل صراط اور حساب و کتاب اور اہلِ بہشت واہلِ نار کے درمیان ہونے والی درج ذیل گفتگو میں زبانِ حال مراد لی:
وَنَادٰۤی اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِیۡضُوۡا عَلَیۡنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ ؕ (پ۸،الاعراف:۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان:(دوزخی بہشتیوں سے کہیں گے) ہمیں اپنے پانی کا کچھ فیض دو یا اس کھانے کا جو اللّٰہ نے تمہیں دیا۔
دوسرا گروہ:جن حضرات نے تاویلات نہ کرنے میں غلو کیا ان میں سے ایک حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل بھی ہیں ۔ یہ اس آیت ِ قرآنی میں بھی تاویل نہیں کرتے:کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۴۰﴾٪ (پ۱۴،النحل:۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان: ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے۔
ان کا خیال ہے کہ یہ خطاب ہر لمحہ حروف اور آواز کے ساتھ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اشیاء کی تعداد کے مطابق ہوتا رہتا ہے حتی کہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبلعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل کے بعض شاگردوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ تاویل صرف احادیث ِ مبارَکہ کے ان تین جملوں میں ہو گی:
(۱)…اَلْحَجَرُ الْاَسْوَدُ یَمِیْنُ اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہٖیعنی: حجر اسود اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی زمین میں اس کا دایاں ہاتھ ہے۔ (۱)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الکامل فی ضعفاء الرجال، اسحاق بن بشر:۱۷۲، ج۱، ص۵۵۷۔المصنف لعبد الرزاق، باب الرکن من الجنۃ، الحدیث:۸۹۵، ج۵، ص۲۸، بدون لفظ ’’الاسود‘‘۔