Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
341 - 1087
کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہیں ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے:
وَفِیْ کُلِّ شَیْئٍ لَہٗ اٰیَۃٌ		تَدُلُّ عَلٰی اَنَّہُ الْوَاحِدُ
	ترجمہ: ہر چیز میں اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ کی نشانی ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے۔
	اس طرح بھی کہا جاتا ہے کہ ’’یہ کاریگری اپنے بنانے والے کے حسنِ تدبیر اور کمالِ علم کی گواہی دیتی ہے۔‘‘ مراد یہ نہیں کہ وہ چیز اپنی زبان سے گواہی دیتی ہے بلکہ اس کا وجود اور حالت گواہ بنتے ہیں ۔ اسی طرح ہر چیز ذاتی طور پر ایسی ہستی کی محتاج ہے جو اسے بنائے، پھر اسے اور اس کے اوصاف کو باقی رکھے اور اسے مختلف حالتوں سے گزارے تو وہ چیزیں اپنی حاجت کے تحت اپنے خالق کی پاکی بیان کرتی ہیں جسے صرف اہلِ بصیرت سمجھ سکتے ہیں ،نہ کہ ظاہر بینی پر اَڑے ہوئے لوگ۔ اسی لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:
وَلٰکِنۡ لَّا تَفْقَہُوۡنَ تَسْبِیۡحَہُمْ ؕ (پ۱۵،بنیٓ اسرآء یل:۴۴) ترجمۂ کنز الایمان:ہاں ! تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔
ظاہر بین اور اہل بصیرت کے علمی مقام میں فرق:
	بہرحال کم عقل بالکل سمجھ ہی نہیں سکتے، جبکہ مقربینِ بارگاہ اور جید علما اپنی اپنی عقل وبصیرت کے مطابق جان سکتے ہیں ، پوری گہرائی تک ان کی بھی رسائی نہیں کیونکہ ہر چیز میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی تقدیس وتسبیح پر بہت سی شہادتیں ہیں جن کی تعداد علمِ معاملہ بیان نہیں کر سکتا۔ الغرض! یہ فن بھی ان فنون میں سے ہے جن میں ظاہربین اور اہلِ بصیرت کے علمی مقام میں فرق پایا جاتا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ ظاہرو باطن دو جدا جدا چیزیں ہیں ۔ اس مقام پر اہلِ علم کے لئے حد سے بڑھنے کا راستہ بھی ہے اور میانہ روی اختیار کرنے کا بھی۔
	 حد سے بڑھنے والوں کے دو گروہ ہیں :
	(۱)… بعض نے تاویلات کرنے میں غلو کیا		(۲)…بعض نے ختم کرنے میں غلو کیا۔
حد سے بڑھنے والے:
	پہلا گروہ :یہ تو اس قدَر حدسے بڑھ گئے کہ انہوں نے تمام یا اکثر ظاہری الفاظ اور دلائل میں تاویلات کر دیں