Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
34 - 1087
 حافظ ابوطاہر احمد بن محمدسَلَفِی اور {8}حضرت سیِّدُنا ابو سعید محمد بن اسعد نَوقانی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔ (۱)
اِحْیَاءُ العُلُوْمکاخلاصہ لکھنے والے:
	سب سے پہلے ’’لُبَابُ الْاِحْیَاء‘‘کے نام سے اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کا خلاصہ کرنے والے حضرت سیِّدُنا امام غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی  کے بھائی  حضرت سیِّدُنااحمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی  (متوفی۵۲۰ھ )ہیں  ۔دیگرعلمائے کرام نے بھی اس کا خلاصہ فرمایاجن کے اسمائے گرامی یہ ہیں  : …محمد بن سعیدیَمَنِی   (متوفی۵۹۵ھ ) …یحییٰ بن ابوالخیر…علامہ جلال الدین سُیُوطی (متوفی ۹۱۱ھ)…محمدبن عمربَلَخِی…عبدالوہاب بن علی مَراغی …مصرکے شیخ خانقاہ محمد بن علی عَجلُونی (متوفی۸۱۲ھ) رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔(۲)
	ایک خلاصہ عَیْنُ الْعِلْم کے نام سے ہواجس کی شرح حضرت سیِّدُناعلامہ مولانا علی بن سلطان ہروی حنفی المعروف ’’ملاعلی قاری‘‘ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِینے فرمائی ۔اس خلاصہ کے متعلق علامہ ابن حجرمکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی (متوفی۹۷۴ھ) فرماتے ہیں  : یہ اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کا بے مثال خلاصہ ہے جو کسی ہندی عالِم نے کیاہے۔(۳)
اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کی شرح کرنے والے:
	 اِحْیَاءُ الْعُلُوْمکی بہترین شرح حضرت سیِّدُناعلامہ سیِّد مرتضیٰ حسن زَبَیْد ِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی(متوفی۱۲۰۵ھ)نے ’’اِتِّحَافُ   السَّادَۃِ الْمُتَّقِیْن‘‘ کے نام سے لکھی ہے جو 14 ضخیم جلدوں   پر مشتمل ہے ۔
احادیث احیاء کی تخریج کرنے والے:
	اِحْیَاءُ الْعُلُوْم میں   مذکور احادیث مبارکہ کی تخریج کرنے والے علما میں   سرفہرست حضرت سیِّدُناحافظ ابو الفضل عبدالرحیم عراقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَاقِی (متوفی۶۰۸ھ)ہیں   جنہوں   نے احادیث احیاء کی تخریج میں   کئی جلدوں   پر مشتمل کتاب لکھی پھر ’’اَ لْمُغْنِی عَنْ حَمْلِ الْاَسْفَار‘‘ کے نام سے اس کا اختصار کیا… حافظ عراقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَاقِی ہی کے شاگرد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اتحاف السادۃ المتّقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۶۲تا۶۵۔
2…کشف الظنون، ج۱، ص۲۴۔
           اتحاف السادۃ المتّقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۵۶۔
3…الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان، المقدمۃ الاولی، ص۱۱، ملخصًا۔