Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
339 - 1087
یکن باقی نہیں رہ پاتا جبکہ ہدایت لوگوں کے لئے مفید بھی ہے اور اسے بقا بھی حاصل ہے۔
	اسرار کی اس تیسری قسم میں بعض لوگوں نے معاملاتِ آخرت جیسے میزانِ عمل اور پل صراط وغیرہ میں تاویلات بیان کیں ، جو کہ بدعت ہیں کیونکہ ان تاویلات کا نہ تو روایات سے ثبوت ملتا ہے اور نہ ہی ان معاملات کے ظاہری معنی مراد لینا ناممکن ہے، لہٰذا انہیں ظاہری معنی پر ہی محمول کیا جائے گا۔
{4}…(مقربین کے ساتھ خاص اسرار میں سے چوتھی قسم)ابتداء ً  آدمی کسی چیز کو اجمالاً (مختصراً)جانے پھر دلیل و تجربے سے اس کی تفصیلات حاصل کرے حتی کہ وہ چیز اس کا حال بن جائے اور اسے لازم ہو جائے۔ ان دونوں طریقوں (یعنی مختصر اور تفصیلی) میں فرق ہو گا۔ پہلا چھلکے کی مثل ہے دوسرا مغز کی طرح۔پہلا ظاہر کی مانند ہے دوسرا باطن کی مثل۔ مثال کے طور پر کوئی شخص اندھیرے میں یا دُور سے کسی کو دیکھے تو اسے ایک طرح کا علم حاصل ہو جاتا ہے، جب دُوری یا اندھیرا ختم ہوتا ہے تو پہلے اور دوسرے علم میں فرق پاتا ہے۔ لیکن یہ دوسرا علم پہلے سے متضاد نہیں بلکہ اسے مکمل کرنے والا ہے۔ علم ،ایمان اور تصدیق بھی اسی طرح ہیں ۔یونہی عشق، بیماری اور موت میں مبتلا ہونے سے پہلے بھی انسان ان کی حقیقت پر یقین رکھتا ہے مگر جب ان میں مبتلا ہوتا ہے تو اس یقین میں پہلے سے زیادہ پختگی آجاتی ہے۔ بلکہ انسان کو اپنے تمام احوال بشمول شہوت وعشق کی تین مختلف حالتوں اور تین جدا جدا فہموں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس حالت کے واقع ہونے سے پہلے،واقع ہوتے وقت اور واقع ہونے کے بعد اس کی تصدیق کرنا۔ جیسے بھوک کا فہم بھوک ختم ہونے کے بعد ویسا نہیں ہوتاجیسا بھوک کی حالت میں تھا۔ اسی طرح علومِ دینیہ میں سے کوئی علم حاصل کیا جائے تو وہ مکمل ہو کر پہلے کی بنسبت باطن کی طرح ہو جاتا ہے۔ اسی طرح صحت کے متعلق جو فہم واِدراک مریض کو ہوتا ہے وہ تندرست کو نہیں ہوتا۔
	اسرار کی ان چار اقسام میں لوگوں کی سمجھ بوجھ کی قوت آپس میں مختلف ہوتی ہے۔ لیکن ان میں کوئی ایسا باطن نہیں جو ظاہر کے خلاف ہو بلکہ وہ ظاہر کو اسی طرح پورا اور مکمل کرتا ہے جس طرح گودا چھلکے کو۔ ان باتوں کے ماننے والوں کو سلام۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ الۡاَمْثَالَ ﴿ؕ۱۷﴾  (پ۱۳،الرعد:۱۷)ترجمۂ کنز الایمان:اس نے آسمان سے پانی اُتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو(دھار) اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی اور جس پر آ گ دہکاتے ہیں گہنا(زیور)یا اور اسباب بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللّٰہ بتاتا ہے کہ حق و باطل کی یہی مثال ہے تو جھاگ تو پُھک کر دور ہو جاتا ہے اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے اللّٰہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے۔