Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
338 - 1087
 کو دیکھا جائے تو وہاں انگلیاں نہیں ملیں گی، جس سے معلوم ہواکہ انگلیوں سے اشارتاً قدرت مراد ہے۔یہ قدرت اُنگلیوں کا راز اوران کی مخفی روح ہے۔ اُنگلیوں سے قدرت کیوں مراد لی؟ اس لئے کہ اس انداز سے اقتدارِ اعلیٰ بخوبی سمجھایا جا سکتا ہے (۱)۔اسی طرح اس آیت مقدسہ میں بھی قدرتِ الٰہیہ کو اشارتاً بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیۡءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰہُ اَنۡ نَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۴۰﴾٪ (پ۱۴،النحل:۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے۔
	اس آیت سے ظاہری معنی مراد لینا ناممکن ہے کیونکہ اگر کسی شے کو وجود سے پہلے لفظ ِ ’’کُنْ‘‘ سے مخاطب کیا جائے تو یہ محال ہے کہ معدوم شے خطاب کیسے سمجھے گی؟ اور اگر یہ خطاب موجود کو ہے تو اسے وجود میں لانے کا کیا مطلب؟ مگر اس طرح کا کنایہ چونکہ انتہائی درجہ کی قدرت سمجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا اسے استعمال میں لایاگیا۔
(۲)…دلیلِ شرعی: کسی راز کے اگرچہ ظاہری معنی مراد ممکن ہو لیکن روایات بتاتی ہوں کہ یہاں ظاہری معنی مراد نہیں ۔ جیسا کہ اس فرمانِ الٰہی کی تفسیر میں ہے:
اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا (پ۱۳،الرعد:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اس نے آسمان سے پانی اُتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے۔
 	اس آیت ِ مبارَکہ میں پانی سے مراد قرآنِ پاک اوروادیوں سے مراد دل ہیں ۔ بعض دل قرآن کا فیضان زیادہ پاتے ہیں ، بعض کم اور بعض بالکل ہی نہیں ۔ جھاگ (۲)سے مراد کفر ونفاق ہے، کیونکہ یہ اگرچہ سطحِ آب پر ابھراہوتا ہے 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
ہیں کہ ’’یہ عبارت متشابہات میں سے ہے کیونکہ رب تعالیٰ انگلیوں ہاتھوں وغیرہ اعضاء سے پاک ہے، مقصد یہ ہے کہ تمام کے دل اللّٰہ کے قبضہ میں ہیں کہ نہایت آسانی سے پھیر دیتاہے، جیسے کہا جاتاہے تمہارا کام میری انگلیوں میں ہے یا میں سوالات کاجواب چٹکیوں سے دے سکتا ہوں ۔‘‘
1…مثلاًچٹکیوں میں کام کرنا، انگلیوں پر نچانا جیسے محاوروں کا استعمال۔
2…یہاں سے مذکورہ آیت ِ مبارَکہ کے اگلے کچھ حصے کی تفسیر بیان کی جا رہی ہے۔ مکمل آیت ِ طیبہ یہ ہے: اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا فَاحْتَمَلَ السَّیۡلُ زَبَدًا رَّابِیًا ؕ وَمِمَّا یُوۡقِدُوۡنَ عَلَیۡہِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَۃٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ۬ؕفَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْہَبُ جُفَآءً ۚ وَاَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الۡاَرْضِ ؕ