Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
337 - 1087
 کے سر کو گدھے کے سر جیسا بنا دے۔‘‘  (۱)
	(رکوع وسجود میں امام سے آگے بڑھنے والے مقتدی کے ساتھ) اس حدیث کے ظاہری معنی کے مطابق صورتِ حال کبھی پیش نہ آئی (۲)۔ ہاں ! معنوی اعتبار سے ممکن ہے یعنی اس آدمی کا سر رنگ وشکل کے اعتبار سے گدھے کے سر جیسا نہیں ہوتا بلکہ خاصیت یعنی بے وقوفی وکم عقلی میں گدھے جیسا ہو جاتا ہے۔ پس جو مقتدی(رکوع وسجود میں ) امام سے پہلے سر اٹھائے تو اس کا سربے وقوفی اور کم عقلی میں گدھے کے سر جیساہے۔ حدیث شریف کی مراد یہی ہے حقیقتاً گدھے کی صورت مراد نہیں جو الفاظ کا ظاہری معنی ہے اور دو متضاد چیزوں کو یکجا کرنا مقتدی کی بہت بڑی بے وقوفی ہے کہ اقتدا بھی کرے اور امام سے آگے بھی بڑھے۔
مرادی معنی کی پہچان کا طریقہ:
	اسرارکی اس قسم میں ظاہری معنی مراد نہیں اس کی پہچان کے دو طریقے ہیں :(۱) دلیل عقلی (۲)دلیل شرعی ۔
(۱)…دلیلِ عقلی:یوں کہ ان الفاظ کی ظاہری مراد پر عمل ناممکن ہو۔ جیسا کہ اس حدیث ِمبارکہ میں ہے: ’’قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰن یعنی: مومن کا دل رحمن کی اُنگلیوں میں سے دو اُنگلیوں کے درمیان ہے(۳)۔‘‘ (۴) لہٰذا اگر قلب ِ مومن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب اثم من رفع راسہ قبل الامام، الحدیث: ۶۹۱، ج۱، ص۲۴۹۔
2 …ممکن ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کے زمانہ تک ایساکوئی واقعہ رونما نہ ہوا ہو اسی لئے آپ نے یہ فرمایا مگر اسے حقیقی معنی پر محمول کرنا بھی ممکن ہے چنانچہ،حضرت سیِّدُناعلامہ علی بن سلطان محمد القاری المعروف ملا علی قاری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی مذکورہ حدیث مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :حقیقی معنی کا احتمال اس دلیل کی بنا پرہے کہ اس امت میں بھی صورتوں کا مسخ ہونا ممکن ہے جیساکہ علامات قیامت کے متعلق مروی روایات میں مذکور ہے۔نیز ایساثابت بھی ہے کہ سر گدھے کے سر کی طرح ہوگیا۔ چنانچہ، منقول ہے کہ’’ ایک محدث حدیث لینے کے لئے ایک بڑے مشہور شخص کے پاس دمشق میں گئے اور ان کے پاس بہت کچھ پڑھا ، مگر وہ پردہ ڈال کر پڑھاتے ، مدتوں تک ان کے پاس بہت کچھ پڑھا ، مگر ان کا منھ نہ دیکھا ، جب زمانہ دراز گزرا اور انہوں نے دیکھا کہ ان کو حدیث کی بہت خواہش ہے تو ایک روز پردہ ہٹا دیا ، دیکھتے کیا ہیں کہ ان کا منھ گدھے کا سا ہے ، انہوں نے کہاـ: ’’صاحب زادے! امام پر سبقت کرنے سے ڈرو کہ یہ حدیث جب مجھ کو پہنچی میں نے اسے مستبعد ( یعنی بعض راویوں کی عدم صحت کے باعث دورازقیاس)جانا اور میں نے امام پر قصداً سبقت کی ، تو میرا مونھ ایسا ہو گیا جو تم دیکھ رہے ہو۔‘‘(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلوۃ،تحت الحدیث:۱۱۴۱، ج۳، ص۲۲۱)
3…صحیح مسلم، کتاب القدر، باب تصریف اللّٰہ تعالٰی القلوب…الخ، الحدیث:۲۶۵۴، ص۱۴۲۷۔
4…مُفَسِّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّتحضرتِ مفتی احمدیارخان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان  مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح، ج1،ص99پر اس کے تحت فرماتے… …