واضح بھی ہو۔ مثلاً کوئی کہے: ’’ میں نے فلاں شخص کو خنزیروں کے گلے میں موتیوں کے ہار ڈالتے دیکھا‘‘ اوراس قول سے یہ بتانا چاہے کہ ’’ فلاں شخص علم وحکمت کے موتی نااہلوں کو لٹا رہا ہے‘‘ یہ قول سننے والا عام شخص اس کا ظاہری معنی مراد لے سکتا ہے لیکن زیرک شخص جب اس شخص کے متعلق سنے اور دیکھے گا کہ اس کے پاس موتی ہیں نہ خنزیرتووہ اس قول کے باطنی معنی اور راز کو پالے گا۔ایسے معانی اور اسرار کوسمجھنے کے سلسلے میں لوگوں کی حالت مختلف ہوتی ہے۔
درزی اور جولاہا:
اسی مفہوم کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
رَجُلَانِ خَیَّاطٌ وَآخَرُ حَائِکُ مُتَقَابِلَانِ عَلَی السَّمَاکِ الْاَعْزَلِ
لَا زَالَ یَنْسُجُ ذَاکَ خِرْقَۃَ مُدْبِرٍ وَیَخِیْطُ صَاحِبُہٗ ثِیَابَ الْمُقْبِلِ
ترجمہ:دو آدمی جن میں سے ایک درزی اور دوسرا جولاہا ہے دونوں آسمانِ بالا پر ایک دوسرے کے مقابل ہیں ۔ایک ہمیشہ بدبختوں کے لباس بُنتا اور دوسرا نکوکاروں کے لباس سیتا ہے۔
شاعر نے سعادَت وشقاوَت جیسے آسمانی اسباب کو دوکاریگروں سے تعبیر کیا۔یہ ہے وہ قسم جس میں بات کو اس انداز سے بیان کیا جائے کہ اس میں وہی معنی یا اس جیسا مفہوم پایا جائے۔
’’مسجد سکڑتی ہے‘‘ سے مراد:
ایساہی مفہوم اس حدیث پاک میں بھی ہے: ’’اِنَّ الْمَسْجِدَ لَیَنْزَوِی مِنَ النُّخَامَۃِ کَمَا تَنْزَوِی الْجِلْدَۃُ عَلَی النَّارِ یعنی: رینٹھ سے مسجد ایسے سکڑتی ہے جیسے آگ سے چمڑا۔‘‘ (۱)
حالانکہ ظاہر میں ایسا نہیں ہوتا کہ رینٹھ کی وجہ سے صحن مسجد سکڑتا ہو بلکہ اس فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ رُوحِ مسجد قابلِ تعظیم ہے، یہاں رینٹھ ڈالنا توہین اور معنی ٔ مسجدیت کے خلاف ہے جس طرح آگ چمڑے کے اجزاء کے خلاف ہے۔
گدھے جیسا منہ:
ایک اور حدیث ِ پاک میں ہے: ’’کیا امام سے پہلے سر اٹھانے والا اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب صلاۃ التطوع والامامۃ، الحدیث:۹، ج۲، ص۲۶۰۔