باہر ہے۔ رُوح اور صفاتِ باری تعالیٰ کے اسرار اسی قسم سے متعلق ہیں اور یہ حدیث ِپاک بھی شاید اسی طرف مشیر (اشارہ کرتی) ہے کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نور کے 70حجابات ہیں اگر وہ انہیں ہٹادے تواس کی تجلیات تاحد نگاہ سب کچھ جلا دیں۔‘‘ (۱)
بے دینی کا باعث:
{2}…(مقربین کے ساتھ خاص اسرار میں سے دوسری قسم)وہ پوشیدہ امور جو بذاتِ خود قابلِ فہم ہیں ۔ عقل کی ان تک رسائی ہے لیکن انبیا و اولیا کو ان امور کے بیان کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ اکثر لوگ ان امور کا بیان سن کر نقصان اٹھاتے ہیں لیکن انبیا واولیا اس نقصان سے محفوظ رہتے ہیں جیسے مسئلۂ تقدیر کا راز، اہلِ علم حضرات کو اس راز کا افشا(ظاہرکرنا) منع ہے۔ کیونکہ عام مشاہدہ ہے کہ بعض حقیقتوں کا بیان بعض لوگوں کے لئے باعث ِ نقصان ہے جیسے گوبر کے کیڑے کو گلاب کی خوشبو اور چمگادڑ کی آنکھوں کو سورج کی روشنی ضرر دیتی ہے ۔نیز یہ قول بالکل حق ہے کہ کفر، زنا، گناہ اور دیگر تمام برائیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم، ارادہ اور مشیت سے ہیں مگر اس سے بعض لوگ فتنے میں پڑیں گے اور گمان کریں گے کہ یہ بات خلاف ِ حکمت ،بے وقوفی کی علامت اوربرائی وظلم پر رضامندی کی نشانی ہے۔ابن راوندی اور دیگرذلیل لوگوں کی بے دینی کا سبب اسی طرح کی باتیں بنیں ۔
اسی طرح رازِ تقدیر کا اِفشا کئی لوگوں کو اس شبہ میں ڈال سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ عاجز ہے (معاذاللّٰہ)کیونکہ عوام اُن باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہے جن سے اس شبہ کا ازالہ کیا جا سکے۔ قیامت کے متعلق اگر کوئی شخص کہے کہ وہ ایک ہزار سال یا اس سے کچھ عرصہ پہلے یا بعد واقع ہو گی تو اس کی بات بالکل معقول ہے، لیکن بندوں کی مصلحت اور اندیشۂ ضرر کے پیشِ نظر اس مدَّت کو بیان نہیں کیا گیا کیونکہ قیامت آنے میں اگر زیادہ عرصہ باقی ہوتا تو لوگ عذاب میں تاخیر کو دلیل بنا کر غفلت شِعار ہو جاتے اور اگر علمِ الٰہی میں قیامت کا وقوع جلدی ہوتا اور لوگوں کو یہ بات بتا دی جاتی تو وہ زیادہ خوف میں مبتلا اور اعمال سے روگرداں ہو جاتے اور نظامِ دنیا خراب ہو جاتا۔ مذکورہ بیان اگر صحیح اور درست سمت پر ہو تو دوسری قسم کی مثال بن سکتا ہے۔
{3}……(مقربین کے ساتھ خاص اسرار میں سے تیسری قسم)کسی چیز کا صراحتاً ذکر اگرچہ اندیشۂ ضرر سے خالی اور قابلِ فہم ہو، اس کے باوجود اسے اشاروں کنایوں میں بیان کرنا تاکہ وہ چیز سامع کے دل میں زیادہ اثر کرے اور یہی مصلحت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب فی قولہ علیہ السلام…الخ، الحدیث:۱۷۹، ص۱۰۹، باختصارٍ۔