Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
334 - 1087
	اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایسی صفاتِ الٰہیہ کو بیان فرماتے جن کے مشابہ صفات مخلوق کے پاس نہ ہوتیں تو وہ صفاتِ باری تعالیٰ کو نہ سمجھ پاتے۔ مثال کے طور پر کسی بچے یا عِنِّین کے سامنے جماع کی لذت بیان کی جائے تو وہ اس کی حقیقت سے نابلد رہے گا اور اسے کسی کھانے کے ذائقے کی طرح سمجھے گا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور مخلوق کے علم و قدرت میں فرق:
	یاد رہے! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے علم وقدرت اور مخلوق کے علم وقدرت کے درمیان فرق، کھانے اور جماع کی لذت کے درمیان فرق سے کہیں زیادہ ہے۔ بہر حال!انسان اوّلاً اپنی ذات اور اپنی موجودہ یا سابقہ صفات کو سمجھتا ہے پھر اس پر قیاس کرکے مزید اشیاء کی جان پہچان حاصل کرتا ہے پھر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ صفاتِ ربّ اور صفاتِ عبد میں شرف وکمال کے اعتبار سے بہت فرق ہے۔ بشری طاقت صرف اتنی ہے کہ وہ اپنی ذات میں ثابت شدہ فعل اور علم وقدرت وغیرہ جیسی صفات کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے اس فرق ویقین کے ساتھ ثابت مانے کہ وہ ان صفات میں بزرگ وبرترا ور اکمل ترین ہے جبکہ انسان کی انتہائی رسائی اپنی ذات تک ہی محدود ہوتی ہے، ربّ تعالیٰ کے لئے مختص بزرگی تک رسائی بندے کو حاصل نہیں ۔ اسی وجہ سے سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ یعنی:(یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ!)میں تیری ایسی حمد وثنا نہیں کرسکتا جیسی حمد وثنا تو اپنے لئے کرتا ہے۔‘‘  (۱)
	اس روایت کا یہ مطلب نہیں کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اسے بیان نہیں کرسکتا بلکہ یہ کہ جلالت و عظمت الٰہی کو کامل طور پر نہ جاننے کا معترف ہوں ۔ اسی بنا پر بعض عارفین کہتے ہیں کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حقیقت کووہ خود ہی جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا۔‘‘  (۲)
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ’’تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے اپنی معرفت کی طرف مخلوق کو راہ نہیں دی بلکہ انہیں اس سے عاجز رکھا۔‘‘  (۳)
	اب ہم اپنی گفتگو کو مقصود کی طرف لاتے ہیں کہ اسرار ورموز کی ایک قسم وہ ہے جس کا ادراک عوام الناس کے بس سے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب مایقال فی الرکوع والسجود، الحدیث:۴۸۶، ص۲۵۲۔
2…روح البیان، الجزء الخامس والعشرون، سورۃ الشوری، ج۸، ص۲۹۴۔
3…الرسالۃ القشیریۃ، باب التوحید، ص۳۳۲، ’’سبحان‘‘ بدلہ ’’الحمدللّٰہ‘‘۔