Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
333 - 1087
اور اگر ان کاتعلُّق ظاہر دل سے نہ ہوتا بلکہ باطن سے ہوتا تو انہیں اس کتاب کے پہلے حصے میں ذکر نہ کیا جاتا۔ کیونکہ حقیقت کا کھل جانا تو دل اور اس کے باطن کے راز کی صفت ہے۔ لیکن جب کلام سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ ظاہر باطن کے خلاف ہے تو اس شبے کے ازالے کے لئے مختصر وضاحت کی ضرورت پیش آئی۔لہٰذا جو کہے کہ حقیقت شریعت کے خلاف یا ظاہر باطن کے متضاد ہے تو وہ شخص ایمان کی بنسبت کفر کے زیادہ قریب ہے۔
خواص کے اسرار کی اقسام:
	جن اسرار کا اِدراک صرف مقربین کے لئے خاص ہے، دیگر علما ان کے ساتھ شریک نہیں اور انہیں ان رازوں کو فاش کرنے کی بھی اجازت نہیں ۔ ایسے اسرار کی پانچ اقسام ہیں :
{1}…کوئی شے ذاتی طور پر بہت باریک اور عوام کی سمجھ سے بالاتر ہو، جسے صرف خواص ہی سمجھ سکتے ہیں اور ان خواص پر بھی لازم آتا ہے کہ نااہل پر اس شے کے راز کو فاش نہ کریں ۔ ورنہ وہ کم عقلی اور ناسمجھی کی بنا پر فتنے میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ’’روح کے راز کو بھی چھپایا جائے گا جسے ظاہر کرنارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی منع تھا۔‘‘(۱) کیونکہ حقیقت ِ روح کے ادراک وتصوُّرتک عوام کی سمجھ اور خیال کو رسائی نہیں ۔ کسی کو وسوسہ نہ آئے کہ حضورنبی ٔ غیب دان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حقیقت ِ رُوح کا علم نہ تھا(بلکہ بعطائے ربُّ العزَّت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حقیقت ِ رُوح کابھی علم رکھتے ہیں ) کیونکہ جسے حقیقت ِ روح کا علم نہیں اسے اپنے نفس کی معرفت بھی حاصل نہیں اور جسے اپنے نفس کی معرفت نہیں وہ معرفت ِ ربّ کیسے پا سکتا ہے؟ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان اسرار سے بعض اولیا وعلما کو بھی حصہ مل جائے اگرچہ وہ نبی نہیں ہوتے لیکن آدابِ شریعت کا پاس رکھتے ہیں اور جس مسئلے میں شریعت خاموش ہے وہ بھی اس میں خاموش رہتے ہیں ۔ بلکہ صفاتِ باری تعالیٰ میں کچھ باتیں مخفی ہیں جہاں اکثر لوگوں کی عقل نہیں پہنچ سکتی۔ پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان صفات مثلاً اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا علم وقدرت وغیرہ کے صرف ظاہری معنی بیان فرمائے۔ جسے لوگوں نے ایک مناسب طریقے پر سمجھا اور خود کو حاصل علم وقدرت جیسی صفات کے مشابہ جانا کیونکہ مخلوق کو بھی کچھ صفات کی عطا ہے جنہیں علم وقدرت کا نام دیا جاتا ہے۔ اس پر قیاس کرکے علم وقدرتِ الٰہی کو خیال کیا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…صحیح مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ…الخ، باب سوال الیھود النبی…الخ، الحدیث:۲۷۹۴، ص۱۵۰۱۔