Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
332 - 1087
{12}…بعض عارفین کا قول ہے کہ ربوبیت کے رازوں کوظاہر کرنا کفر ہے۔
{13}…ایک عارف فرماتے ہیں :’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک راز ایسابھی ہے کہ اگر ظاہر ہوجائے تو نبوت ہی باطل ہو جائے اور نبوت کا ایک رازایسا ہے کہ اگر وہ کھل جائے تو علم باطل ہوجائے اور علمائے ربانیین کا ایک رازایسا ہے کہ اگر وہ اسے ظاہر کر دیں تو احکامِ شرع باطل ہوجائیں ۔‘‘  (۱)
مومنِ کامل:
	اس قول کے قائل بزرگ کی اگر یہ مراد نہ ہو کہ کمزور لوگ عقل وفہم کی کمی کے سبب نبوت کے اہل نہیں ہوتے تو جو کچھ انہوں نے ذکر کیا وہ صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ اس میں تناقض نہیں کہ مومن کامل وہ ہے جس کی معرفت کا نور، اس کی پرہیز گاری کے نور کو نہ بجھا ئے اور پرہیزگاری کی اصل نبوت ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	مذکورہ آیات واحادیث میں تاویل ہو گی۔ لہٰذاہمارے سامنے واضح کرو کہ علوم کے ظاہر وباطن کے اختلاف سے کیا مراد ہے؟ اگر یہ ہو کہ باطن ظاہر کے مخالف ہے تو یہ شریعت کو باطل کرنے اور ان لوگوں کی تائید کرنے کے مترادف ہے جو کہتے ہیں کہ حقیقت شریعت کے خلاف ہے۔ حالانکہ یہ قول کفر ہے کیونکہ ظاہری احکام کو شریعت اور باطنی احکام کو حقیقت کہتے ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ باطن ظاہر کے مخالف ومتضاد نہیں توپھر علوم کا ظاہروباطن ایک ہی ہوااور اس کی ظاہری و باطنی تقسیم بے معنی ہو جائے گی ۔نیز شریعت کا کوئی رازایسا نہ رہے گا جسے ظاہر نہ کیا جا سکے بلکہ پوشیدہ اور ظاہر ایک ہی ہو گا۔
	 یہ سوال ایک بڑے امر کو حرکت دینے، علمِ مکاشفہ کی طرف لے جانے اور اصل مقصود یعنی علمِ معاملہ سے ہٹانے والا ہے جسے اس کتاب میں بیان کرنے کا ارادہ ہے۔ ہمارے ذکر کردہ عقائد کا تعلُّق دل کے اعمال سے ہے جنہیں قبول کرنا اورسچے دل سے ان کی تصدیق کرنا ہم پر لاز م ہے۔ یہ لازم نہیں کہ ان کی حقیقتوں تک رسائی پائیں کیونکہ عوام الناس کو اس امر کا مکلف نہیں بنایا گیا۔ اگر عقائد کا تعلُّق اعمال سے نہ ہوتا توانہیں اس کتاب میں بیان نہ کیا جاتا 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
1…قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون فی ذکردعائم الاسلام…الخ، ج۲، ص۱۴۷۔