حالانکہ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ اگر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ راز صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے سامنے بیان فرماتے تو وہ ضرور اس کی تصدیق کرتے۔
{8}…حِبْرُ الْاُمَّہ حضرت سیِّدُناعبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اس آیت ِ طیبہ :
اَللہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ ؕ یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیۡنَہُنَّ(پ۲۸،الطلاق: ۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اللّٰہہے جس نے سات آسمان بنائے اور انہی کے برابر زمینیں ،حکم ان کے درمیان اترتا ہے۔
کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ’’اگر میں اس کی تفسیر بیان کرتا تو تم مجھے سنگ سار(یعنی پتھر مار کرہلاک) کردیتے۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ ’’اگر میں اس کی تفسیر بیان کرتا تو تم مجھے کافرقرار دیتے۔‘‘ (۱)
{9}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ’’بارگاہِ رسالت سے مجھے دو طرح کے علم عطا ہوئے ایک کو تومیں نے ظاہر کردیااگردوسرا بھی ظاہر کردوں تومیری گردن کاٹ دی جائے۔‘‘ (۲)
{10}…حضورنبی ٔ اکرم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ابوبکر صدیق کی تم پر فضیلت کی وجہ نماز وروزہ کی کثرت نہیں بلکہ وہ راز ہے جو ان کے سینے میں ودیعت کیا گیا ہے۔‘‘ (۳)
بلاشبہ وہ راز دینی اصولوں کے متعلق ہی تھا اس سے خارج نہ تھا اور دینی اصولوں کے متعلق امور اپنے ظاہری معنی کے اعتبار سے دیگر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر مخفی نہ تھے۔
{11}…حضرت سیِّدُنا سہل تستریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’حقیقی عالم کو تین قسم کے علوم نصیب ہوتے ہیں : (۱)…علمِ ظاہر جسے وہ صرف اہلِ ظاہر پر ظاہر کرتا ہے۔ (۲)…علمِ باطن جسے وہ صرف اہلِ باطن پر ظاہر کرتا ہے۔ (۳)…وہ علم جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس عالم کے درمیان راز ہے، جسے نہ تووہ اہلِ ظاہر پرظاہر کرتا ہے اور نہ ہی اہلِ باطن کو اس پر آگاہ کرتا ہے۔‘‘ (۴)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قوت القلوب، الفصل الثانی والثلاثون فیہ شرح مقامات الیقین، ج۱، ص۴۲۱۔
2…صحیح البخاری، کتاب العلم، باب حفظ العلم، الحدیث:۱۲۰، ج۱، ص۶۳۔
3…المقاصد الحسنۃ، حرف المیم، الحدیث:۹۷۰، ص۳۷۶۔
4…قوت القلوب، الفصل الثالث والثلاثون فی ذکردعائم الاسلام…الخ، ج۲، ص۱۴۸۔