وَبَاطِنًا وَحَدًّا وَمَطَّلَعًا یعنی: بے شک قرآن کاظاہربھی ہے اور باطن بھی، اس کی ایک حد ہے اور ایک مطلع ۔‘‘ (۱)
{2}…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے سینۂ مبارَکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہاں بہت سے علوم موجود ہیں ۔ کاش! مجھے انہیں حاصل کرنے والا کوئی مل جائے۔‘‘ (۲)
{3}…حضورنبی ٔ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باکمال ہے: ’’ہم گروہ انبیا کو حکم ہے کہ عوام سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کریں ۔‘‘ (۳)
{4}…سرکارِ مدینہ، راحت ِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے کہ ’’لوگوں کی عقلوں سے ماورا گفتگو کرنے والا ان کے لئے فتنے کا باعث ہے۔‘‘ (۴)
{5}…اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے:
وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ ۚوَمَا یَعْقِلُہَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾ (پ۲۰،العنکبوت:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان فرماتے ہیں اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔
{6}…سرورِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ نوربار ہے کہ ’’بعض علوم پوشیدہ خزانوں کی طرح مخفی ہیں جنہیں معرفت ِ خداوندی رکھنے والے ہی جانتے ہیں ۔‘‘(۵)
{7}…حضور نبی ٔ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے کہ ’’اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو کم ہنستے اور زیادہ روتے۔‘‘ (۶)
غور فرمائیے کہ اگر یہ ایسا راز نہ ہوتا جسے عوام کی سمجھ سے بالاتر ہونے یا کسی اور وجہ کی بنا پر ظاہر کرنے سے منع فرما دیا گیاتو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر کیوں ظاہرنہ فرمایا؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، ذکر العلۃ الّتی من اجلھا…الخ، الحدیث:۷۵،ج۱،ص۱۴۶، باختصارٍ۔
2…التذکرۃ الحمدونیۃ، الباب الاوّل، ج۱، ص۱۰۔
3…المقاصد الحسنۃ، حرف الھمزۃ، الحدیث:۱۸۰، ص۱۰۲۔۱۰۳۔
4…صحیح مسلم، المقدمۃ، الحدیث:۵، ص۹، بتغیرٍقلیلٍ۔
5…فردوس الاخبار، باب الالف، الحدیث:۷۹۹، ج۱، ص۱۲۶۔
6…صحیح مسلم، کتاب صلاۃ الاستسقاء، الحدیث:۹۰۱، ص۴۴۸۔