سے بہت قریب ہے۔‘‘(۱)
{6}…تاج العارفین قطب الاولیا حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ عَیْد رُوْس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کواِحْیَاءُ الْعُلُوْم تقریباً پوری حفظ تھی۔ آپ فرماتے ہیں : ’’اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کو لازم پکڑلو۔یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نظررحمت اوررضاکاذریعہ ہے توجس نے اس سے محبت کی اور اس کا مطالعہ کرکے اس پر عمل کیا اس نے اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ملائکہ وانبیا عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی محبت کو پالیااوراس نے شریعت ،طریقت اور حقیقت کو دنیا وآخرت میں جمع کرلیا اوروہ ملک و ملکوت میں عالم ہو گیا۔‘‘نیزفرمایا:’’ہمارے لئے قرآن وسنت کے علاوہ کوئی راستہ ومعیار نہیں اوران کی مکمل تشریح و تفصیل سَیِّدُالْمُصَنِّفِیْن بَقِیَّۃُ الْمُجْتَہِدِیْن حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنااما م محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے اپنی عظیم الشان تصنیف اِحْیَاءُ الْعُلُوْم میں فرمادی ہے۔‘‘(۲)
{7}… حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ عَیْد رُوْس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بھائی حضرت سیِّدُنا شیخ علی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کو 25مرتبہ بالاستیعاب پڑھا۔آپ ہر بار ختم کرکے فقرا وطلبا کی دعوت کرتے تھے۔(۳)
{8}…حضرت سیِّدُناشیخ ابومحمد کازَرُوْنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا دعویٰ تھا کہ ’’ اگر تمام علوم ناپید ہوجائیں تو میں اِحْیَاءُ الْعُلُوْم سے سب کونکال لوں گا۔‘‘(۴)
اِحْیَاءُ العُلُوْمکی روایت کرنے والے:
اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کی روایت جن حضرات عالیہ نے فرمائی ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں : {1}حضرت سیِّدُنا عبدالخالق بن احمد بغدادی {2}حضرت سیِّدُنا محمد بن ثابت بن حسن خُجَنْدِی ،ان کی سند روایت میں علامہ ابن حَجر عَسْقَلانی(متوفی۸۵۲ھ) اور حافظ شمس الدین سَخَاوِی(متوفی۹۰۲ھ)جیسی عظیم ہستیاں بھی ہیں {3}حضرت سیِّدُنا ابوالفتوح اسعد بن احمد اِسْفَراءِنِی {4}حضرت سیِّدُنا ابو عبداللّٰہ محمد المالکی ،ان کی سند روایت میں سیِّدُناعلامہ جلال الدین سُیُوطی شافعی(متوفی۹۱۱ھ) اورحافظ عبدالرؤف مَناوی(متوفی۱۰۰۳ھ) جیسی عظیم ومعتبرشخصیات بھی ہیں {5}حضرت سیِّدُنا قاضی ابوبکر محمد بن عبداللّٰہ عربی {6}حضرت سیِّدُنا ابوالعباس احمد بن محمد {7} حضرت سیِّدُنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تعریف الاحیاء بفضائل الاحیاء علی ہامش احیاء علوم الدین، ج۵، ص۳۵۹۔
2…المرجع السابق ۔
3…المرجع السابق، ص۳۶۰۔
4…المرجع السابق، ص۳۵۹۔