حکم کابدلتے رہنا کچھ عجب نہیں ۔
علمی وسعتیں پانے کا نسخہ:
علمِ کلام کا مذکورہ حکم، دفاع اور حفاظت کا طریقہ کار ان عقائد کے لئے بیان کیا گیا ہے جنہیں عامۃُ الْمُسْلِمِیْن اپناتے ہیں ۔اس کے علاوہ شبہات دُور کرنے، حقائق سے باخبر ہونے، اشیاء کا وجود جس طور پر ہے اسے پہچاننے اور بیان کردہ عقائد کے لئے استعمال ہونے والے ظاہری الفاظ کے اسرار ورموز کو جاننے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ طاعاتِ الٰہیہ بجا لانا، نفسانی خواہشات ترک کرنا، بارگاہِ الٰہی کی طرف مکمل متوجِّہ رہنا اور ہمیشہ اپنے ذہن کو جھگڑوں کے مرض سے پاک رکھنا ہے۔ یہ تمام اُمور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہیں ۔ توفیقِ الٰہی کے شاملِ حال ہوتے ہوئے جو شخص ان امور کی خوشبوئیں پانے کی جس قدَر کوشش کرتا اور جتنی قلبی صفائی وصلاحیت رکھتا ہے اسی تناسب سے انہیں پالیتا ہے۔ یہ اتناوسیع سمندر ہے جس کی گہرائیوں اور کناروں تک پہنچنا کسی کے بس کی بات نہیں ۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
مذکورہ وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان علوم کی کچھ باتیں ظاہر ہیں اورکچھ پوشیدہ، بعض ابتداء ً ہی واضح ہو جاتی ہیں اور بعض مخفی رہتی ہیں جن کی وضاحت کے لئے عبادت وریاضت،انتھک کوشش وصلاحیت،فکری پاگیزگی اورتمام غیر ضروری دنیاوی افکار سے قلبی صفائی ضروری ہے۔ جبکہ یہ بات خلافِ شرع معلوم ہوتی ہے کیونکہ شریعت ظاہر وباطن اور پوشیدہ وعلانیہ جیسی تقسیمات میں بٹی ہوئی نہیں بلکہ اس میں ظاہر وباطن اور علانیہ وپوشیدہ ایک ہی ہیں ؟
جواب، علوم دو قسموں پر مشتمل ہوتے ہیں : (۱)ظاہری(۲)باطنی۔
اس بات سے اہلِ علم تو انکار نہیں کرتے بلکہ انہی کم علموں کوانکار ہوتا ہے جو نوعمری کے زمانے میں جو کچھ سیکھتے ہیں اسی پر جم جاتے ہیں ۔ علمی ترقی اوردرجاتِ اولیا وعلما کی طرف پیش قدمی ان کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ وگرنہ علوم کی مذکورہ تقسیم پر دلائلِ شرعیہ موجود ہیں ۔
علوم کی تقسیم پر دلائلِ شرعیہ:
{1}…حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معرفت نشان ہے: ’’اِنَّ لِلْقُرْاٰنِ ظَاہِرًا