{1}…اس علم کا طالب، اسی کے لئے وقف اور اسی کا خواہش مند ہو کیونکہ دیگر مشاغل کی طرف توجہ اس علم کی تکمیل اور وارد ہونے والے اعتراضات کے جوابات دینے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو گی۔
{2}…طالب ِ علم ذہین وفطین اور فصیحُ اللِّسان(یعنی بولنے کا ماہر) ہو کیونکہ کند ذہن اس علم سے فائدہ نہ اٹھا سکے گا اور کم فہم شخص کے لئے بھی اس کے دلائل فائدہ مند ثابت نہ ہوں گے۔ لہٰذا ایسے شخص کے حق میں علمِ کلام سے نفع کی اُمید کم جبکہ نقصان کا خوف زیادہ ہے۔
{3}…طالب ِ علم کی طبیعت نفسانی خواہشات سے دور اور اصلاح، دیانت داری اور تقویٰ وپرہیز گاری جیسی قابلِ قدْر خوبیوں سے معمور ہو کیونکہ فاسق کو چھوٹا سا شبہ بھی دین سے دور کر دیتا اور اس کے اور خواہشاتِ نفسانیہ کے درمیان پردے کو اُٹھا دیتا ہے۔ پھر وہ شخص شبہات کو دور کرنے کے بجائے انہیں دین اور دینی ذمہ داریوں کو چھوڑنے کے لئے بہانے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا ایسے طالب ِ علم سے بھی فوائد کے بجائے نقصانات کی توقعات زیادہ ہیں ۔
جب آپ علمِ کلام کی تقسیمات جان چکے تو میں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ اس علم میں بہترین دلیل اسے تصور کیا جاتا ہے جو دلائلِ قرانیہ جیسی ہویعنی کلمات نرم،دل نشین اور اطمینان کن ہوں ۔ درمیان میں ایسی اقسام اور دقیق ابحاث نہ لائی جائیں جو اکثر لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہوں اور اگر سمجھ بھی لیں تو یہی تاثر پیدا ہو کہ یہ اس کی شعبدہ بازی اور فن کاری ہے جسے لوگوں کی دھوکادہی کے لئے استعمال کرتا ہے اس فن میں اس جیسا ماہر اس کا مقابلہ کرسکتا ہے۔
بعض احکام میں تبدیلی کاایک سبب:
آپ جانتے ہیں کہ علمِ کلام کے بیان کردہ نقصانات کے پیشِ نظر حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی اور دیگر کئی بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن نے اس علم کے لئے وقف ہو جانے اور اس میں بہت زیادہ غوروخوض کرنے سے منع فرمایاہے۔ رہی بات اس مناظرے کی جو حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا خارجیوں سے اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا منکر ِ تقدیر سے ہوا اور اس طرح کے دیگر مناظرے تووہ واضح اور ظاہر کلام کے ساتھ بوقت ِ ضرورت منعقد ہوئے تھے۔ اس لئے انہیں اچھا ہی جانیں اور مانیں گے۔ ہاں ! یہ بات ہے کہ کسی دَور میں اس علم کی ضرورت زیادہ محسوس ہو گی اور کسی میں کم تو اسی حساب سے اس علم کے