ایک سوال اور اس کا جواب:
اشیاء کی نفی واثبات اور علل واسباب کی حکمتوں سے بحث کرنا دل کی تیزی کا سبب ہے اور دل دین کا آلہ ہے جیسے تلوار جہاد کا آلہ ہے۔ تو دل کی تیزی پیدا کرنے میں کیا حرج ہے؟جواب، یہ دلیل تو ایسی ہی بے تکی ہے جیسے کوئی کہے کہ شطرنج کھیلنے سے دل کو تیزی ملتی ہے لہٰذا شطرنج کھیلنا بھی ایک دینی کام ہوا۔ حالانکہ یہ خواہش پروری کے سواکچھ نہیں ، کیونکہ دل تمام علومِ شرعیہ سے تیز ہوتا ہے جن میں کوئی خطرے کی بات بھی نہیں ہوتی۔ علمِ کلام کتنی مقدار میں ، کس وقت اور کس کے لئے مفید ولائقِ تعریف ہے اور کس کے لئے نہیں یہ سب بیان ہوچکا۔
علم کلام دوا اورعلم فقہ غذا کی مثل ہے:
چونکہ گزشتہ صفحات میں بدمذہبوں کی تردید کے لئے علمِ کلام کی ضرورت کو آپ تسلیم کرچکے اور اب جبکہ لوگوں میں بدمذہبی پھیلتی جا ر ہی ہے تو علمِ کلام کی ضرورت متحقق(ثابت) ہو گئی لہٰذا اس کا حصول فرضِ کفایہ ہونا چاہئے۔ جس طرح اموال اور دیگر حقوق کی حفاظت کے لئے قضا وولایت وغیر ہ ضروری ہیں اور جب تک علمائے کرام اس علم کو پھیلانے، پڑھانے اور اس کی تحقیق کی ذمہ داری نہیں سنبھالیں گے اس وقت تک اسے دوام حاصل نہیں ہوگا۔اس علم سے بالکل بے رُخی برتنا اسے مٹانے کے مترادف ہے اور اسے سیکھے بغیر محض طبعی صلاحیتوں کے بل بوتے پر بدمذہبوں کی تردید کرنا ایک مشکل امر ہے۔ لہٰذا اس علم کی تدریس وتحقیق کو فرضِ کفایہ کا درجہ حاصل ہونا چاہئے اور جہاں تک زمانۂ صحابہ کی بات ہے تو اس وقت اس علم کی ضرورت ہی نہ تھی۔
جواب:ہونا تو یہی چاہئے کہ ہر شہر میں اس علم کا ماہر ہو جو اس شہرمیں بدمذہبوں کے اٹھنے والے اعتراضات کا جواب دے اور یہ تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ لیکن اس کی تدریس تفسیر وفقہ کی تدریس کی طرح عام نہ ہو۔ اسے یوں سمجھئے کہ علمِ کلام دوا کی مثل ہے اور علمِ فقہ غذا کی مثل۔ غذاکے ضرر کا کوئی ڈر نہیں لیکن دواکے نقصان سے ضرور بچنا ہوگااور اس کے نقصانات ہم بیان کرچکے ہیں ۔
علم کلام کسے سکھایا جائے؟
ماہرِعلمِ کلام صرف تین اوصاف کے حامل شخص کو یہ علم سکھائے: