Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
326 - 1087
توانہیں ’’رسالۂ قدسیہ‘‘ میں ہمارے ذکر کردہ دلائل سکھا دئیے جائیں تاکہ اگر بدمذہب مناظروں کے راستے اپنا تأثر قائم کرنا چاہیں تویہ دلائل اسے بے اثر بنا دیں ۔یہ دلائل مختصر ہیں اسی وجہ سے ہم نے انہیں اس رسالے میں ذکر کیا ہے۔
{4}…اگر مبتدی( ابتدا ئی طالب علم ) ذہین ہو اور ذہانت کی بنا پرمقامِ سوال سے باخبر ہوجاتا ہو یا اس کے دل میں شبہ پیدا ہو جائے تو جان لینا چاہئے کہ قابلِ اجتناب علت اور بیماری سامنے آ چکی۔ ایسی صورتِ حال کے حل کے لئے علما اس قدر آگے بڑھ سکتے ہیں جو ہم نے 50 اَوراق پر مشتمل رسالے ’’اَ لْاِقْتِصَادفِی الْاِعْتِقَاد‘‘ میں بیان کیا ہے۔ اس میں علمائے متکلمین کی دیگر ابحاث سے صرفِ نظر کرتے ہوئے، صرف عقائد کے اصول وقواعد بیان کئے گئے ہیں ۔ اگر اسی کو کافی سمجھے تو مزید کچھ سکھانے بتانے کی ضرورت نہیں اور اگر پھر بھی مطمئن نہ ہو تو سمجھ لیں کہ بیماری پرانی ہو گئی اور غالب آچکی ہے اور مرض جسم میں سرایت کر چکا ہے۔ پس طبیب بقدرِ امکان علاج کرے اور انتظار کرے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اپنے حکم سے اس کے لئے وضاحت ِ حق کا کوئی سبب پیدا فرما دے یا پھر جب تک اس کے مقدر میں ہے شکو ک وشبہات میں پڑا رہے۔ پس ’’اَ لْاِقْتِصَادفِی الْاِعْتِقَاد‘‘ جیسی کتابوں میں جو کچھ مذکور ہے اس سے نفع کی امید کی جا سکتی ہے۔
بے فائدہ علمِ کلام کی اقسام:
	کتاب ’’رسالۂ قدسیہ‘‘اور ’’اَ لْاِقْتِصَادفِی الْاِعْتِقَاد‘‘میں مذکور علم کلام کے علاوہ جو ہے وہ غیر مفید ہے اور اس کی دوقسمیں ہیں :
{1}…قواعد ِعقائد کے علاوہ امور کو زیر بحث لانا، مثلاً اعتمادات(یعنی اسباب وعلل)، موجودات اور اشیاء کی نفی واثبات میں بحث کرنا اور اس بات میں غور کرنا کہ کیا رویت(یعنی دیکھنے) کی ضد رکاوٹ کہلائے گی یا نابینائی؟ اور دکھائی نہ دینے والی سب اشیاء کے لئے ایک ہی رکاوٹ ہے یاقابلِ رویت اشیاء کی تعداد کے برابر رکاوٹیں ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ جیسی باطل وگمراہ کن باتیں ۔
{2}…بیان کردہ قواعد ِ عقائد کے علاوہ ان دلائل کو زیادہ بیان کرنا اور بہت زیادہ سوال وجواب کرنا ہے۔ یہ عمل بھی ایک ایسی انتہا ہے جو ہمارے دلائل سے غیر مطمئن شخص کی گمراہی اور جہالت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ کیونکہ کئی کلام ایسے ہیں جن کو طول دینا اور لمبی تقریر کرنا دقت وابہام(یعنی دشواری و پوشیدگی) کا سبب بنتا ہے۔