Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
325 - 1087
 دہ ادویات کو صرف مقامِ ضرورت پر تجویز کرتا ہے، اسی طرح وہ بھی علمِ کلام کو بقدرِ ضرورت اور بوقت ِ حاجت ہی استعمال میں لائیں ۔
{1}…دنیاوی کاموں اور کاروبار میں مصروف عام مسلمانوں کے عقائد اگر مذکورہ عقائد ِ اہل سنت کے مطابق ہوں تو ضروری ہے کہ اسی پر اکتفا کیا جائے ۔اس لئے کہ عوام کے حق میں علمِ کلام کی تعلیم باعث ِ نقصان ہے۔ کیونکہ وہ بعض اوقات شکوک وشبہات میں پڑ کر اپنے عقائد کی پختگی کھوبیٹھتے ہیں اور پھر ان کی اصلاح کے آثار معدوم ہو جاتے ہیں اور بدعتی عقائد اختیار کرنے والے عام شخص کو سختی سے نہیں بلکہ خوش اخلاقی اورایسی نرم گفتگو سے راہِ حق پر چلنے کی دعوت دی جائے جو قرآن وحدیث کے دلائل سے مزین اور نصیحت وخوفِ خداکے تأثرات سے بھرپور ہو جس کی بنا پر نفس مطمئن ہو اور دل کھنچ جائے۔ یہ وہ طریقہ ہے جو شرائط ِ متکلمین کے مطابق مناظرانہ گفتگو سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ ایک عام آدمی سے بحث ومباحثہ کے تناظر میں گفتگو کرکے اسے اگر لاجواب بھی کر دیا جائے تووہ یہی سمجھے گاکہ یہ محض مناظرانہ انداز سے اپنا ہم عقیدہ بنانے کی کوشش ہے اور میرا ہم مذہب مناظر بھی اسے لاجواب کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ لہٰذا بدعتی عقائد کے حامل اور شکوک و شبہات میں گرفتار عام آدمی سے مناظرہ کرنا حرام ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ منتشر الذہن (یعنی حیران و پریشان) افراد کے شبہات کا نرمی، وعظ ونصیحت اور ایسے دلائل سے ازالہ کیا جائے جو علمِ کلام کی مشکل ابحاث سے پاک اور معقول و مقبول طرز پرہوں ۔
{2}…علمِ کلام کے انتہائی درجوں کو چھونا ایک صورت میں مفید ہے وہ یہ کہ بالفرض ایک عام شخص کسی مناظرے سے متأثر ہو کر بدعتی عقائد اختیار کر بیٹھا تو ایسے شخص کے سامنے اسی طرح کی مناظرانہ گفتگو اسے واپس راہِ راست پر لا سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی اسی صورت میں ہے جب یہ معلوم ہوجائے کہ شخص مذکور مناظرہ ہی چاہتا ہے، وعظ ونصیحت اور ڈرانے والے عمومی دلائل پر اکتفا نہیں کرتا۔ یہ بدعقیدگی کی وہ خراب حالت ہے جس کا علاج مناظرے کی دوا سے کرنے کی اجازت ہے۔
{3}…وہ علاقہ جات جہاں بدعتیں اور مذہبی اختلافات کم ہیں ، وہاں مذکورہ عقائد ہی کو بیان کرنے پر اکتفا کیا جائے اور اس وقت تک دلائل کو نہ چھیڑا جائے جب تک شبہات سر نہ اٹھائیں ۔جب شبہات پڑ نا شروع ہوں تو بقدرِ حاجت دلائل بیان کر دیئے جائیں ۔اگر بدمذہبی کا فتنہ زوروں پر ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ بچے اس فتنے کی زد میں آسکتے ہیں