Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
324 - 1087
 میں پھیلتی جارہی ہے ۔ یہ بھی علم کلام کا ایک نقصان ہے۔
علم کلام کے فوائد:
{1}…(یہ گمان کیاجاتا ہے کہ)اس کے ذریعے حقائق کی وضاحت اور ماہیت کی معرفت حاصل ہوتی ہے مگر افسوس کہ یہ عظیم مقصد اس سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ وضاحت ومعرفت کے بجائے دیوانگی و گمراہی میں اضافہ ہوجاتاہے ۔ علمِ کلام کی مذمت اگرکوئی محدث کرے یا کوئی بے علم شخص اس کے خلاف بولے تو وسوسہ آسکتا ہے کہ لوگ جس چیز کا علم نہیں رکھتے اس کے مخالف ہو جاتے ہیں ۔تو سنئے! یہ مذمت وہ شخص  کر رہاہے ( امام غزالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِیاپنی طرف اشارہ کررہے ہیں )جس نے علمِ کلام اور اس کے متعلقات کو خوب اچھی طرح پرکھااورچوٹی کے ماہرین علم کلام کے درجوں تک پہنچا لیکن نتیجہ یہی معلوم ہوا کہ اس طرف سے آنے والوں کے لئے حقائق کے دروازے بند ہیں ۔
{2}…میری عمر کی قسم! علمِ کلام کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے بعض امور منکشف، واضح اور معروف ہو جاتے ہیں لیکن اس کا وقوع بہت کم اور ان ظاہری اُمور تک محدود ہے جن کی توضیح علمِ کلام میں غوروفکر کے بغیر بھی ممکن ہے۔
{3}…اس سے عوام کے لئے ہمارے بیان کردہ عقائد کی حفاظت ہوتی اور بدعتیوں کے مناظروں سے پیدا ہونے والے شکوک وشبہات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔کیونکہ ایک عام آدمی کمزور ہوتا ہے اور وہ بدعتی کی مناظرانہ گفتگو کا محض زبانی کلامی جواب دینے کے لئے پُرجوش ہوتاہے اگرچہ یہ فاسد رویہ ہے اور فاسد رویے سے ہی فاسد کا مقابلہ اسے دُور کر سکتا ہے۔نیزعام لوگ ہمارے بیان کردہ عقائد کو ہی اپناتے ہیں اس لئے کہ شریعت نے انہی عقائد کو بیان کیااور سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن نے بھی یہی عقائد اپنائے کیونکہ انہی عقائد میں سب کے دین ودنیا کی بھلائی ہے۔
علمائے کرام کی ذمہ داری:
	جس طرح حاکم وقت اس امر کا ذمہ دار ہے کہ اپنی رعایا کے اموال پر ظالموں اور غاصبوں کو ہاتھ نہ ڈالنے دے اسی طرح علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عامۃُ الْمُسْلِمِیْن کو بدعتیوں کی فریب کاریوں سے بچائیں ۔
علم کلام کے استعمال کے طریقے:
	علمِ کلام کے فوائد ونقصانات سے باخبر ہونے کے بعد علمائے کرام کو چاہئے کہ جس طرح ایک ماہر طبیب نقصان