Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
323 - 1087
 باعث ِ نقصان ہے، یہی حکم مٹی خوری کا ہے۔ لہٰذا مٹی خوری اور شراب نوشی کو مطلقاً حرام کہنا اور شہد کو مطلقاً حلال کہنا اکثر حالات کی بنا پر ہے۔ (اس قدر تفصیل بیان کرنے سے مقصود یہ سمجھانا تھا) کہ اگر کسی چیز میں حالات مختلف ہوں تو سب سے بہتر اور شکوک وشبہات سے بالاتر یہی ہے کہ اسے بالتفصیل بیان کیا جائے۔اب ہم دوبارہ اپنی گفتگو کو علمِ کلام کی طرف لاتے ہوئے اپنا موقف واضح کرتے ہیں ۔ 
علم کلام کے متعلق مصنف کا نظریہ:
	اس علم کا فائدہ بھی ہے اور نقصان بھی۔ جب یہ علم فوائد کا مو جب بنے تو ان فوائد کے پیشِ نظر اور حالات کے مطابق اسے جائز یا مستحب یا واجب کہا جائے گا اورجب نقصان رساں ثابت ہو تو حرام کا حکم دیا جائے گا۔
علم کلام کے نقصانات:
{1}…اس علم کی وجہ سے شکوک وشبہات جنم لیتے ہیں ۔ یقین اور پختگی رخصت اور عقائد متزلزل ہو جاتے ہیں اور یہ وہ نقصانات ہیں جن کا صدور اس علم کی ابتداہی میں ہوجاتا ہے اور دلیل پاکر دوبارہ عقائد کی پختگی پا لینا بھی یقینی نہیں ہوتا ۔ نیز لوگوں کی حالت بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔لہٰذا اس علم کا ایک نقصان عقائد ِحقہ(یعنی درست عقائد) میں خلل ڈالنا ہے۔
{2}… اہلِ بدعت اپنے بدعتی عقیدوں پر جم جاتے ہیں اوربدعت ان کے سینوں میں یوں قرار پکڑ لیتی ہے کہ وہ اسی کے ہو کر رہ جاتے اوراسی پرمصر رہتے ہیں ۔ لیکن علمِ کلام کی وجہ سے پیش آنے والا یہ نقصان اس تعصب کا نتیجہ ہوتا ہے جو جدل ومناظرہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام بدعتی کو اس کی بدعقیدگی سے توبہ کرانا آسان اور جلد ممکن ہوتا ہے۔ ہاں ! اگر اس کی نشوونما جدل اور تعصب زدہ علاقے میں ہو توپھر خواہ اگلے پچھلے سب لوگ جمع ہو کر اس کے سینے کو بدعت سے پاک کرنا چاہیں تو نہ کر پائیں بلکہ خواہشِ نفس، تعصُّب اور مناظرین ومخالفین کی مخالفت اس کے دل کو اپنے قبضے میں لے لیتی اور اسے قبولِ حق سے روک دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس بدعتی کے لئے یہ بھی ممکن ہو جائے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اس کی آنکھوں سے پردے ہٹا کر اس پر حق واضح کر دیاجائے اوراسے بتا دیا جائے کہ دوسری جانب والے ہی اہلِ حق ہیں ، تو پھر بھی وہ ناخوش ہی ہو گا کیونکہ اب اسے یہ ڈر رہے گا کہ اس بات سے اس کا مخالف خوش ہوجائے گا۔یہ ہے فساد کی ایک قسم اور بھیانک بیماری جومتعصب مناظرین کی وجہ سے شہروں اور لوگوں