جانا توجواباً عرض ہے کہ علم حدیث ،تفسیر اور فقہ کی تصنیف وتدریس کی طرف بھی ان کا میلان نہیں تھا۔
مجادلہ و مناظرہ کے طریقے وضع کرنے کا مقصد:
اگرفقہ کی تصنیف اور قلیل الوقوع نادر جزئیات وضع کرنے کا جواز اس طور پر ہو کہ جب کبھی ایسی صورت کا وقوع ہو اگرچہ نادر ہی ہو تو یہ فقہی ذخیرہ کام آئے یا پھر ذکاوت ذہنی(ذہانت وتیزفہمی) پیشِ نظر ہو توہمارا مجادلہ کے طریقے وضع کرنے سے بھی یہی مقصود ہوتا ہے کہ جب شکوک وشبہات سر اٹھائیں اور بدعتی مقابل آئیں یا ذکاوتِ ذہنی اور دلائل کا ذخیرہ جمع کرنا مقصود ہو توایسے مواقع پر غور وفکرکرنے کی ضرورت نہ پڑے بلکہ فوری جواب پیش کیا جاسکے۔ یہ سب ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص جنگ سے پہلے جنگ کے لئے کار آمد اسلحہ تیار رکھے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو علمِ کلام کی تائیدکرنے والوں اور رد کرنے والوں کی جانب سے حتی الامکان بیان کر دی گئیں ۔
ایک سوال اور اس کاجواب:
اگر آپ کہیں کہ علمِ کلام کے متعلق آپ کا کیا موقف ہے؟تو اس کاجواب یہ ہے کہ علمِ کلام کو نہ تو بالکل غلط قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بالکل درست بلکہ اس پر حکم لگانے میں کچھ تفصیل درکار ہو گی۔ پہلے یہ بات جان لیجئے کہ بعض چیزوں کی حرمت ذاتی ہوتی ہے:جیسے شراب اور مردار۔یہاں ’’ذاتی‘‘ اس لئے کہا کہ وجۂ حرمت ان حرام چیزوں کی ذات میں موجود ہے اور وہ شراب کا نشہ آور ہونا اور مردار کا(بغیر ذبح شرعی کے) مرنا ہے۔ لہٰذ۱ اگر کوئی شخص شراب ومردار کا حکم معلوم کرے گا تومطلقاً حرام کا حکم دیا جائے گا اور یہ شقیں بیان نہیں کی جائیں گی کہ بحالت ِ مجبوری مردار کھانا جائز ہے اور اگر لقمہ حلق میں پھنسا ہو اور سوائے شراب کے کوئی مشروب نہ ملے تواس وقت شراب کا گھونٹ حلال ہے۔ بعض چیزیں کسی خارجی امرکی وجہ سے حرام ہوتی ہیں : جیسے مسلمان کے سودے پر ایامِ خیار میں سودا کرنا، اذانِ جمعہ کے وقت کاروبار کرنا اور مٹی کھانا۔ مٹی کھانا اس لئے حرام ہے کہ اس میں انسانی صحت کا نقصان ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں : (۱)… مٹی کھاناکم ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں اگر نقصان دہ ہو تومطلقاً حرام کہا جائے گا جس طرح زہر قلیل ہو یا کثیر، ہلاکت خیز ہے ۔(۲)… اگر مٹی کی کثیر مقدار ہی فسادِ صحت کا سبب بنے توایسی صورت میں مطلقاً جواز کا قول اختیار کیا جائے گا جیسے شہد(کہ اس کا کھانا اگرچہ حلال ہے) لیکن اس کی کثیر مقدار گرم مزاج افراد کے لئے