لاجواب ہوکر دو ہزار افراد توبہ کرکے حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی بیعت میں آگئے۔
{2}…مشہور تابعی بزرگ حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کا ایک منکر ِتقدیرسے مناظرہ ہوا، بالآخر وہ اپنی بدمذہبی سے تائب ہوگیا۔
{3}…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے بھی ایک منکرِ تقدیر سے مناظرہ کیا۔
{4}…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا حضرت سیِّدُنایزید بن عمیرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے ایمان کے متعلق مناظرہ ہوا۔ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا موقف یہ تھا کہ اگر تم کہو کہ ’’میں مومن ہوں تولازماً یہ بھی کہو کہ میں جنتی ہوں ۔‘‘ اس کے جواب میں حضرت سیِّدُنایزید بن عمیرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کہا: ’’اے صحابی ٔ رسول رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ! اس مسئلے میں آپ سے سہو ہوا ہے۔ ایمان تو اس چیز کا نام ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ، اس کے رسولوں ، فرشتوں اور اس کی کتابوں کو مانا جائے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے اور میزانِ عمل قائم ہونے کو تسلیم کیا جائے، نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسے احکام کی تعمیل کی جائے۔ ہم گناہ گار ہیں اگر معلوم ہوجائے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے گناہ بخش دے گا تو ہم جنتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو صرف مومن کہتے ہیں ، جنَّتی نہیں ۔‘‘ یہ جواب سن کر حضرت سیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ درستی پر ہیں ، غلط فہمی مجھے ہوئی تھی۔‘‘ (۱)
مناظرانہ انداز میں اسلاف کا طرزِ عمل:
یہ کہنا درست ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن مناظرہ ومجادلہ کی طرف بہت کم اور مختصر وقت کے لئے ضرورتاً توجہ دیتے ، اس میں زیادہ پڑنا، اسے زیادہ وقت دینا یا اس کے لئے باقاعدہ تصنیف وتدریس کا اہتمام کرنا اور اسے مشغلے کے طور پر لینا ان کی عادت میں شامل نہیں تھا۔ کم توجہ کی وجہ کم ضرورت تھی کہ اس دَور میں بدعتوں کا ظہور نہیں ہوا تھا۔ بحث میں اختصار کی وجہ یہ تھی کہ بحث سے اصل مقصود مد ِمقابل کو خاموش کرانا، اپنی بات منوانا، حق کو واضح اور شکوک وشبہات کو زائل کرنا ہوتا ہے۔ اگر مد ِمقابل کا اعتراض یا اصرار طول پکڑتا تو بالضرور ان حضرات کے کلام وجواب میں بھی طوالت ہوتی۔یہ نفوس قدسیہ اپنا کلام شروع فرمانے کے بعد اس کی ضرورت کا اندازہ کسی ترازو یاپیمانے سے نہیں لگاتے تھے اورجہاں تک یہ بات ہے کہ ان حضرات نے علمِ کلام کی تصنیف وتدریس کو لائق توجہ نہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تاریخ دمشق لابن عساکر، یزید بن عمیرۃ الزبیدی، ج۶۵، ص۳۳۸۔۳۳۹، بتغیرٍ۔