وَجَادِلْہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ ؕ (پ۱۴،النحل:۱۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اوران سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔
نیزصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بھی بوقت ِ ضرورت منکرین کے خلاف دلائل پیش کئے اور ان سے مناظرے کئے اگرچہ انہیں ایسے مواقع بہت کم پیش آئے۔
صحابہ وتابعین عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مناظروں کی چند مثالیں :
{1}…اظہارِ حق کی خاطر مناظرے کی رِیت سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ڈالی کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو خارجی فرقے سے مناظرہ کے لئے بھیجا۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے خارجیوں سے پوچھا: ’’تمہیں اپنے خلیفہ امیرالمؤمنین حضرت علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی کس بات پر اعتراض ہے ؟‘‘ کہا: ’’انہوں نے جنگ (۱) کی ،لیکن مالِ غنیمت اکٹھا کیا نہ قیدی بنائے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ان سب چیزوں کے حصول کا جواز کفار سے جنگ کرنے پر ہوتا ہے۔تم خود ہی بتاؤ اگر جنگ جمل(۲) میں ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا جنگی قیدی بن کر تم میں سے کسی کے حصے میں آتیں تو کیا تم ان سے لونڈیوں والا سلوک کرتے؟ حالانکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بنص قرآنی (یعنی صاف و صریح آیت کے مطابق) اُمُّ المؤمنین ہیں ۔‘‘ انہوں نے اس کا جواب نفی میں دیا(۳) اور اس مناظرے میں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…یہ واقعہ جنگ صفین جو حضرت سیِّدُناعلی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مابین صفر ۳۷ ہجری کو ہوئی تھی، سے واپسی پر پیش آیا۔ جب کچھ لوگ حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے الگ ہو کر خارجی فرقے سے منسوب ہوئے اور اہلِ حق سے جنگ وجدال اور لوٹ مار میں مصروف ہوگئے۔یہ واقعات ۳۸ ہجری میں پیش آئے۔ (مستفاداز تاریخ الخلفاء،ص۱۱۲)
2…جنگ جمل جمادی الآخر ۳۶ ہجری امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دورِ خلافت میں لڑی گئی۔ اس میں ایک طرف امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اوردوسری جانب حضرت سیِّدُنا زبیر، حضرت سیِّدُناطلحہ وام المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن تھے۔ وجہِ نزاع خونِ عثمان کا مطالبہ تھا۔ (مستفاد از تاریخ الخلفاء، ص۱۱۲ )
3…المستدرک،کتاب قتال اھل البغیی، مناظرۃ ابن عباس مع الحروریۃ، الحدیث:۲۷۰۳، ج۲، ص۴۹۵۔۴۹۶۔