اخلاقی کتابوں میں ملنا مشکل ہے ۔اخلاقیات کے موضوع پریہ ایک بے مثال کتاب ہے۔ بعد کے مصنفین نے اخلاقیات کے موضوع پر جو کچھ لکھا ہے اس کا ماخذ اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ہے ۔مشہور ہے کہ آپ نے اس کی تصنیف کے لیے بیت المقدس میں جو جگہ منتخب کی تھی وہ قُـبَّۃُ الصَّخْرَۃ کا مشرقی گوشہ تھا اور آپ اس گوشہ میں معتکف تھے ۔(۱)ویسے تو حضرت سیِّدُنااما م محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی کی تمام ہی کتب علم کے درنایاب اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہیں مگر سب سے زیادہ شہرت پانے والی کتاب اِحْیَاءُ الْعُلُوْم اپنی مثال آپ ہے۔اس کاپورانام’’ اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن‘‘ہے مگرمشہور اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کے نام سے ہے ۔یہ کتاب ہردورمیں مشائخ وعارفین ،اقطاب واولیا اورعلما وصوفیا کی توجہ کامرکزرہی ہے اور یہ معتبرہستیاں اس کی قصیدہ خوانی میں رطب اللسان نظرآتی ہیں ۔ہرکسی نے اپنے اپنے اندازمیں اس کی تعریف وتوصیف فرمائی ہے ،چنداقوال ملاحظہ فرمائیے:
{1}…حضرت سیِّدُناحافظ ابو الفضل عبدالرحیم عراقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَاقِی (متوفی۶۰۸ھ) فرماتے ہیں : ’’حلال وحرام کی پہچان کے لئے اِحْیَاءُ الْعُلُوْماسلام کی اعلیٰ ترین کتب میں سے ہے۔‘‘(۲)
{2}… حضرت سیِّدُنا سیِّد کبیر علی بن ابو بکر سَقَّاف عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار(متوفی۸۹۵ھ)فرماتے ہیں : ’’اگر کافر اِحْیَاءُ الْعُلُوْمکی ورق گردانی کرلے تو مسلمان ہوجائے۔اس میں ایسامخفی رازہے جو دلوں کو مقناطیس کی طرح کھینچتاہے ۔‘‘(۳)
{3}…اِمامُ الْمُکَاشِفِیْن حضرت سیِّدُنا شیخ اکبر مُحْی الدِّین ابن عربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی(متوفی۶۳۸ھ)فرماتے ہیں : میں اِحْیَاءُ الْعُلُوْم کو کعبہ معظمہ کے سامنے بیٹھ کر پڑھا کرتا تھا ۔(۴)
{4}…اِمامُ الْحَرَمَیْن کے شاگرد حضرت سیِّدُنا عبدالغافربن اسماعیل فارِسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی (متوفی۵۲۹ھ)فرماتے ہیں : ’’اِحْیَاءُ الْعُلُوْمجیسی کتاب پہلے کسی نے نہیں لکھی ۔‘‘(۵)
{5}…حضرت سیِّدُنا امام یحییٰ بن شرف نَوَوِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی(متوفی۶۷۶ھ)نے فرمایا:’’اِحْیَاءُ الْعُلُوْمقرآن کریم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مقدمۂ احیاء العلوم (مترجم ازعلامہ فیض احمداویسی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی)، ج۱، ص۲۱، ملخصًا۔
2…تعریف الاحیاء بفضائل الاحیاء علی ہامش احیاء علوم الدین ، ج۵، ص۳۵۸۔
3…المرجع السابق ، ج۵، ص۳۶۱۔
4…اتحاف السادۃ المتّقین، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۳۸۔
5…تاریخ مدینۃ دمشق، ج۵۵، ص۲۰۱۔