وَ رَبُّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیۡنَ ﴿۲۶﴾ قَالَ اِنَّ رَسُوۡلَکُمُ الَّذِیۡۤ اُرْسِلَ اِلَیۡکُمْ لَمَجْنُوۡنٌ ﴿۲۷﴾ قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَمَا بَیۡنَہُمَا ؕ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْقِلُوۡنَ ﴿۲۸﴾ قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰـہًا غَیۡرِیۡ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوۡنِیۡنَ ﴿۲۹﴾ قَالَ اَوَلَوْجِئْتُکَ بِشَیۡءٍ مُّبِیۡنٍ﴿ۚ۳۰﴾(پ۱۹،الشعراء:۲۳تا۳۰)
سے سنتے نہیں ۔موسیٰ نے فرمایا ربّ تمہارااور تمہارے اگلے باپ داداؤں کابولا: تمہارے یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ضرور عقل نہیں رکھتے۔موسیٰ نے فرمایا رب پورب(مشرق) اور پچھم (مغرب)کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں عقل ہو۔بولا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا ٹھہرایا تو میں ضرور تمہیں قید کردوں گا فرمایا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لاؤں ۔
الغرض قرآنِ پاک ازاوّل تا آخرکفار کے خلاف دلائل سے معمور ہے۔
توحید،نبوت اور بعثت کے متعلق قرآنی دلائل :
توحید باری تعالیٰ کے ثبوت پر متکلمین کی بہترین دلیل یہ آیت طیبہ ہے:
لَوْکَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا ۚ (پ۱۷،الانبیاء:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر آسمان و زمین میں اللّٰہکے سوا اور خدا ہوتے تو ضرور وہ تباہ ہوجاتے۔
نبوت کی دلیل یہ آیت ِ مقدسہ ہے:
وَ اِنۡ کُنۡتُمْ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثْلِہٖ ۪ (پ۱،البقرۃ:۲۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ۔
مر کر دوبارہ جی اٹھنے پر یہ آیت مبارکہ دلیل ہے:
قُلْ یُحْیِیۡہَا الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَہَاۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ (پ۲۳، یٰسٓ :۷۹)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ انھیں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا ۔
مذکورہ امور کی تائید وتوثیق پر مزید آیات ودلائل بھی موجود ہیں اوررُسلعَلَـیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبھی کفار کو دلائل دیتے اور ان سے مناظرانہ طرزپر گفتگو فرماتے رہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے: