Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :1)
318 - 1087
{۴}
قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ ۚ(پ۸،الانعام:۱۴۹)	 ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ تو اللّٰہہی کی حجت پوری ہے۔
{۵}
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡ حَآجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیۡ رَبِّہٖۤ اَنْ اٰتٰىہُ اللہُ الْمُلْکَ ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰہٖمُ رَبِّیَ الَّذِیۡ یُحْیٖ وَیُمِیۡتُۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیۡتُؕ قَالَ اِبْرٰہٖمُ فَاِنَّ اللہَ یَاۡتِیۡ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاۡتِ بِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَؕ
 ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے ربّ کے بارے میں اس پرکہ اللّٰہ نے اسے بادشاہی دی جبکہ ابراہیم نے کہا کہ میرا ربّ وہ ہے کہ جِلاتا اور مارتا ہے بولا میں جِلاتا اور مارتا ہوں ابراہیم نے فرمایا تو اللّٰہسورج کو لاتا ہے پورب(مشرق) سے تو اس کو پچھم(مغرب) سے لے آتو ہوش اُڑ گئے کافر کے۔ (پ۳،البقرۃ:۲۵۸)	
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دلیل پیش کرنے،دلیل طلب کرنے،مناظرہ کرنے اور اس طریقے پر مخالف کو لاجواب کر دینے کی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تعریف فرمائی۔
{۶}
وَ تِلْکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبْرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ؕ (پ۷،الانعام:۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی۔
{۷}
قَالُوۡا یٰنُوۡحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَکْثَرْتَ جِدَالَنَا (پ۱۲،ہود:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان: بولے اے نوح! تم ہم سے جھگڑے اور بہت ہی جھگڑے۔
{۸}حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور فرعون کے مکالمے کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے یوں بیان فرمایا:
مَا رَبُّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۳﴾ قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَمَا بَیۡنَہُمَا ؕ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِیۡنَ ﴿۲۴﴾ قَالَ لِمَنْ حَوْلَہٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوۡنَ ﴿۲۵﴾ قَالَ رَبُّکُمْ
ترجمۂ کنز الایمان:سارے جہان کا ربّ کیا ہے۔موسیٰ نے فرمایا ربّ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں یقین ہو۔اپنے آس پاس والوں سے بولا کیا تم غور