گئیں مثلاً علمِ حدیث ، تفسیر ، فقہ وغیرہ ،جیسے قیاسی اصطلاحات نقض ، کسر ، ترکیب ، تعدیہ اور فسادِ وضع اگر انہیں صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن پر پیش کیا جاتا تو وہ انہیں نہ سمجھتے۔ لہٰذا کسی مقصد ِ صحیح کو بیان کرنے کی خاطر نئے نئے الفاظ کا چناؤ بھی ایسے ہی درست ہے جیسے جائز استعمال کے لئے نئی طرز کا برتن بنانا۔
٭…اگرمخالفت کسی معنوی خرابی کی وجہ سے کی جاتی ہے تویاد رکھئے! اس علم سے ہمارا مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ عالَم کے حادث ہونے اور اللّٰہتعالیٰ کی وحدانیت اور صفات کو شریعت کی روشنی میں دلائل سے جانا جائے۔ لہٰذا دلیل کے ذریعے معرفت ِ خداوندی کو حرام تونہیں کہا جا سکتا۔
٭…اگر ممنوع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی بنا پر(بحث ومناظرہ کرتے ہوئے آخرکار) جھگڑا، عداوت اور بغض وکینہ جیسے امراض جنم لیتے ہیں تویہ چیزیں واقعی حرام اور قابلِ اجتناب ہیں بالکل ایسے ہی کہ اگر علمِ حدیث، تفسیر اور فقہ سیکھنے پر تکبر، خودپسندی اور جاہ طلبی پیدا ہوجائے تو یہ چیزیں حرام ہوں گی اور ان سے بچنا بھی ضروری ہو گا۔ لیکن ان امراض کو دلیل بنا کر مذکورہ علوم کی تعلیم سے نہیں روکا جائے گا تو پھر علمِ کلام کے ذریعے دلیل پیش کرنا، دلیل کا مطالبہ کرنا اور اس میں بحث کرنا کیسے ممنوع ہو سکتا ہے؟ حالانکہ ان سب امور کا ثبوت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پاک کلام میں موجود ہے۔چنانچہ،
مدلل اور مناظرانہ اندازِ گفتگو کے متعلق قرآنی دلائل :
{۱}
قُلْ ہَاتُوۡا بُرْہَانَکُمْ (پ۱،البقرۃ:۱۱۱) ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ لاؤ اپنی دلیل۔
{۲}
لِیَہۡلِکَ مَنْ ہَلَکَ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ ؕ (پ۱۰، الانفال:۴۲)
ترجمۂ کنز الایمان: کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہواور جو جئے دلیل سے جئے ۔
{۳}
اِنْ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ سُلْطٰنٍۭ بِہٰذَا ؕ (پ۱۱،یونس:۶) ترجمۂ کنز الایمان:تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں ۔
اس آیت میں سلطان سے مراد سند ودلیل ہے۔