متأ خرین محدثین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کا نظریہ:
متأخرین محدثین علمِ کلام کے مذموم ہونے پر متفق ہیں ۔ اس کی مذمت میں ان کے سخت اور بے شماراقوال منقول ہیں ۔ چنانچہ،
٭…اس علم کی طرف صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن مائل نہیں ہوئے حالانکہ یہ حضرات حقائق کی معرفت اور ترتیب ِ الفاظ میں بعد والے لوگوں سے ز یادہ فصیح تھے۔ اسی وجہ سے سرکارِ عالی وقار، شہنشاہِ ابرارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین بار ارشاد فرمایا: ’’بال کی کھال اتارنے والے ہلاک ہوگئے۔‘‘ (۱)یعنی لایعنی بحث اوربے فائدہ تحقیق کرنے والے(ہلاک ہوگئے)۔
٭…اپنے مؤقف کو مزید پختہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ علمِ کلام اگر کوئی دینی کام ہوتا تو حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ضرور اس کا حکم دیتے، اسے حاصل کرنے کا طریقہ ارشاد فرماتے، اس کی اور اسے حاصل کرنے والوں کی تعریف و توصیف فرماتے(لیکن ایسانہیں ہوا)بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو استنجا کرنے کا طریقہ بتایا،(۲) انہیں علمِ میراث سیکھنے کی رغبت دلائی اور ان کی تعریف فرمائی(۳) لیکن قضا وقدر میں بحث کرنے سے اپنے اس ارشاد کے ذریعے منع فرما دیا کہ ’’تقدیر کے معاملے میں خاموش رہو۔‘‘ (۴)صحابۂ کرام عَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان اس حکم پر کاربند رہے۔ یہ نفوسِ قدسیہ ہمارے اُستاذ و رہنما اور ہم ان کے شاگرد وپیروکار ہیں اور شاگرد کی اُستاذ پر پیش قدمی ظلم اور سرکشی کہلاتی ہے۔
مؤیدین علمِ کلام کے دلائل:
٭…علمِ کلام کی مخالفت اگر اس میں استعمال ہونے والے الفاظ کی وجہ سے ہے جیسے جوہر، عرض اور دَورِ صحابہ میں نہ بولی جانے والی نئی نئی اصطلاحات تب تو معاملہ آسان ہے کیونکہ ہر علم کی تفہیم وتعلیم کے لئے اصطلاحات وضع کی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صحیح مسلم،کتاب العلم، باب ھلک المتنطعون، الحدیث:۲۶۷۰، ص۱۴۳۴۔
2…صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ، باب الاستطابۃ، الحدیث:۲۶۲، ص۱۵۵۔
3… سنن ابن ماجہ،کتاب الفرائض،باب الحث علی تعلیم الفرائض، الحدیث:۲۷۱۹، ج۳، ص۳۱۶۔
4…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۴۴۸، ج۱۰، ص۱۹۸۔